سندھ پبلک سروس کمیشن کا معطل افسر کے خلاف سخت اقدام

حیدرآباد (جانو ڈاٹ کام)سندھ پبلک سروس کمیشن کے معطل ایڈیشنل کنٹرولر آف ایگزامینیشنز امتیاز احمد جاگیرانی کے خلاف سخت کارروائی شروع کردی گئی۔ معطلی کے باوجود دفتر سے متعلق سرگرمیاں جاری رکھنے، حساس ریکارڈ اور اہم کمروں کی چابیاں حوالے نہ کرنے پر افسر کو شوکاز نوٹس جاری کرتے ہوئے 7 روز میں تحریری جواب طلب کرلیا گیا۔

تفصیلات کے مطابق سندھ پبلک سروس کمیشن نے معطل ایڈیشنل کنٹرولر آف ایگزامینیشنز امتیاز احمد جاگیرانی کے خلاف معطلی کے احکامات پر عمل نہ کرنے اور اہم سرکاری ریکارڈ و اثاثے متعلقہ حکام کے حوالے نہ کرنے کے معاملے کا سخت نوٹس لیا ہے۔

17 ستمبر کو جاری شوکاز نوٹس کے مطابق امتیاز احمد جاگیرانی کو 14 ستمبر کو ہدایت کی گئی تھی کہ ان کی تحویل میں موجود حساس مواد، متعلقہ فائلیں، دفتر اور متعدد اہم کمروں کی چابیاں کنٹرولر آف ایگزامینیشنز کے حوالے کی جائیں، تاہم نوٹس کے مطابق یقین دہانی کے باوجود مطلوبہ ریکارڈ اور چابیاں جمع نہیں کرائی گئیں۔

نوٹس کے مطابق 15 ستمبر کو دوبارہ یاد دہانی کرانے پر افسر نے شام تک انوینٹری اور فائلیں حوالے کرنے کا کہا، تاہم بعد ازاں دفتر سے روانہ ہوگئے اور مطلوبہ سامان جمع نہیں کرایا۔

شوکاز نوٹس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ 16 ستمبر کو امتیاز احمد جاگیرانی نے اپنی والدہ کی علالت کے باعث کراچی کے آغا خان اسپتال میں طبی معائنے کے لیے واٹس ایپ کے ذریعے رخصت کی درخواست بھیجی، جس کے بعد درخواست بذریعہ کورئیر بھی ارسال کی گئی۔ کمیشن کے مطابق افسر اس سے قبل بھی 9 سے 11 ستمبر تک والدہ کے طبی معائنے کے لیے رخصت لے چکے تھے، تاہم متعلقہ طبی دستاویزات جمع نہیں کرائی گئیں۔

ایس پی ایس سی حکام کے مطابق حساس مواد اور امتحانی ریکارڈ رکھنے والے اہم کمروں کی چابیاں اور متعلقہ فائلیں بروقت حوالے نہ کیے جانے سے آئندہ محکمانہ امتحانات کے انتظامات متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہوا۔

کمیشن نے نوٹس میں مذکورہ اقدامات کو سندھ سول سرونٹس (Efficiency and Discipline) Rules, 1973 کے تحت سنگین بدسلوکی، حکم عدولی اور قانونی ہدایات کی دانستہ خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے وضاحت طلب کی ہے۔

امتیاز احمد جاگیرانی کو شوکاز نوٹس موصول ہونے کے 7 روز کے اندر تحریری جواب جمع کرانے کی ہدایت کی گئی ہے۔ نوٹس میں واضح کیا گیا ہے کہ مقررہ مدت میں جواب جمع نہ کرانے کی صورت میں ان کے خلاف یکطرفہ کارروائی شروع کی جاسکتی ہے، جبکہ ممکنہ سزاؤں میں ملازمت سے برطرفی بھی شامل ہے۔

دوسری جانب سندھ پبلک سروس کمیشن نے عوام اور سرکاری اداروں کے لیے بھی اہم انتباہ جاری کردیا۔ کمیشن کے مطابق معطلی کے دوران امتیاز احمد جاگیرانی کی جانب سے ایس پی ایس سی کے معاملات میں کی جانے والی کسی بھی کارروائی، جاری کردہ دستاویز، ہدایت یا مراسلت کو کمیشن تسلیم نہیں کرے گا۔

کمیشن نے تمام سرکاری محکموں اور عوام کو ہدایت کی ہے کہ معطلی کی مدت کے دوران امتیاز احمد جاگیرانی سے ایس پی ایس سی کے کسی سرکاری معاملے میں بطور مجاز افسر رابطہ یا لین دین نہ کیا جائے۔

ایس پی ایس سی کے مطابق معاملے میں تادیبی اور قانونی کارروائی کا عمل جاری ہے۔

مزید خبریں

Back to top button