صارفین سےSMSپر30پیسے سے2.50پیسے تک وصولی،سالانہ200ارب کا ٹیکہ،سینیٹرز نے بھانڈاپھوڑ دیا

اسلام آباد(جانوڈاٹ  پی کے)اسلام آبادمیں سینیٹر سلیم مانڈوی والا کی زیرصدارت سینیٹ کی قائمہ کمیٹی خزانہ کا اجلاس ہوا، جس میں بینک صارفین سے اے ٹی ایم اور ویزا کارڈ پر ڈالر میں چارجز اور ایس ایم ایس چارجز کی وصولی کا معاملہ زیرغور آیا۔اجلاس میں سینیٹر عبدالقادر نے بتایا کہ بینک صارفین سے ہر ایس ایم ایس پر 30 پیسے سے لے کر ڈھائی روپے تک چارجز وصول کیے جا رہے ہیں۔چیئرمین کمیٹی سلیم مانڈوی والا نے کہا کہ جن صارفین کو ایس ایم ایس سروس کی ضرورت نہیں، انہیں بھی پیغامات بھیج کر چارجز وصول کیے جا رہے ہیں۔سینیٹر عبدالقادر کے مطابق بینکوں کی جانب سے وصول کیے جانے والے ایس ایم ایس چارجز کی مجموعی رقم سالانہ200ارب روپے بنتی ہے۔گورنر اسٹیٹ بینک نے کمیٹی کو بتایا کہ ایس ایم ایس چارجز بینکوں کے نہیں بلکہ ٹیلی کام کمپنیوں کے ہوتے ہیں۔سینیٹر عبدالقادر نے کہا کہ ایک ایس ایم ایس کے اصل چارجز 35 پیسے ہیں، جبکہ دیگر بنڈل آفرز شامل کرکے صارفین سے اضافی رقم وصول کی جا رہی ہے۔قائمہ کمیٹی نے ہدایت کی کہ جن صارفین کو ایس ایم ایس سروس کی ضرورت ہو، صرف انہیں ہی پیغامات بھیجے جائیں اور دیگر صارفین کو غیرضروری ایس ایم ایس بھیج کر اضافی چارجز وصول نہ کیے جائیں۔

مزید خبریں

Back to top button