ٹھٹھہ:سندھ کی لاکھوں ایکڑ زمین کارپوریٹ فارمنگ کے نام پر قبضہ کر کے وسائل کی لوٹ مار کی جا رہی ہے، جسقم رہنماء

ٹھٹھہ ( جاوید لطیف میمن )پورے سندھ میں پینے کے پانی کا شدید بحران ہے اور حکمران عوام کو ریلیف فراہم کرنے میں ناکام ہو چکے ہیں۔
جسقم شھید بشیر خان قریشی کے چیف آرگنائزر ڈاکٹر نیاز کالانی، پنھل ساریو، حاجی خان جلالانی، بابو جان خشک، منظور میمن و دیگر رہنماؤں نے پریس کلب ٹھٹھہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ سندھ کی لاکھوں ایکڑ زمین کارپوریٹ فارمنگ کے نام پر قبضہ کر کے وسائل کی لوٹ مار کی جا رہی ہے، جبکہ سندھ کے پانی پر بھی ڈاکہ ڈال کر صوبے کو بنجر بنانے کی سازش کی جا رہی ہے ان کا مزید کہنا تھا کہ سندھ کے عوام 28ویں آئینی ترمیم اور وسائل کی لوٹ مار کے خلاف ببرلوئی پاس دھرنے کی طرح سخت مزاحمت کریں گے۔ رہنماؤں کا کہنا تھا کہ 25 اپریل کو سن میں سائیں جی ایم سید کی برسی بھرپور طریقے سے منائی جائے گی، جبکہ رہبر کمیٹی کے زیر اہتمام ایک بڑا جلسہ عام بھی منعقد کیا جائے گا، انہوں نے مزید کہا کہ سندھ کے لوگ پرامن ضرور ہیں، مگر اپنی دھرتی اور اس سے جڑے معاملات پر کبھی خاموش نہیں رہیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ 28ویں آئینی ترمیم کے ذریعے وفاق سندھ کے وسائل اور پانی پر کنٹرول حاصل کرنا چاہتا ہے، جس سے نہ صرف صوبوں کے حقوق متاثر ہوں گے بلکہ احساس محرومی میں بھی اضافہ ہوگا، جس کی ہر صورت مزاحمت کی جائے گی، رہنماؤں نے الزام عائد کیا کہ دریائے سندھ پر غیر قانونی بند باندھ کر اس کے پانی کو کم کیا جا رہا ہے، اور 1960ء سے حکمران مسلسل سندھ کے پانی پر ڈاکہ ڈال رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت پورے سندھ میں پینے کے پانی کا شدید بحران ہے اور حکمران عوام کو ریلیف فراہم کرنے میں ناکام ہو چکے ہیں، نہوں نے کہا کہ جسقم شہید بشیر خان قریشی سندھ کے تمام مسائل پر جدوجہد جاری رکھے ہوئے ہے اور اسی پلیٹ فارم سے پورے سندھ کو منظم کیا گیا ہے، جبکہ بہت جلد مرکزی انتخابات بھی کرائے جائیں گے۔



