سانحہ پمز پر سینیٹ میں ہلچل، شیری رحمان نے تحریکِ التوا جمع کرا دی

اسلام آباد(جانوڈاٹ پی کے)سانحہ پمز پر شیری رحمان نے سینیٹ میں تحریکِ التوا جمع کرا دی۔سینیٹر شیری رحمان نے پمز اسپتال کی نرسری میں آتشزدگی کے واقعے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہےکہ بچوں کی لاشیں شناخت نہیں ہو رہیں، یہ ملک کے مرکزی وفاقی اسپتال کی صورتحال ہے۔
شیری رحمان نےکہا کہ یہ انتہائی سنگین حادثہ ہےجس سےکئی اہم سوالات جنم لیتے ہیں،پمز اسپتال اسلام آبادکےعوام کو طبی سہولیات فراہم کرتا ہے اورگزشتہ سال بھی پانی،آگ اور ایمرجنسی سسٹمز سے متعلق رپورٹ طلب کی گئی تھی۔
انہوں نےکہا کہ گزشتہ سال بھی سوالات اٹھے لیکن کچھ عرصے بعد معاملہ ختم ہوگیا۔ عوامی احتساب انتہائی ضروری ہےکیونکہ لوگ ہم سے جواب مانگ رہے ہیں اور پورا ملک اس سانحے پر سراپا احتجاج ہے۔
سینیٹر شیری رحمان نےسوال اٹھایاکہ اسپتال میں داخلے کے لیےجگہ کیوں نہیں تھی،گیٹ کیوں نہیں کھولا جا رہا تھا اوراب تک ایمرجنسی گیٹ بند رکھنےکی کوئی وضاحت کیوں نہیں دی گئی؟ انکا کہنا تھا کہ لوگ کھڑکیاں توڑ کر باہر نکلے۔
انہوں نےکہاکہ وزیراعظم نےواقعےکا نوٹس لیتےہوئےسیکریٹری صحت کو عہدے سےہٹا دیا ہے،اب ایگزیکٹو ڈائریکٹر پمز کو بھی جواب دینا ہوگا کہ اسپتال کا نظام کیوں ناکام ہوا۔
شیری رحمان نےکہا کہ ایسا سانحہ کسی دارالحکومت کےمرکزی اسپتال میں شاید ہی دیکھا گیا ہ، فائر پوائنٹس پرپانی موجود نہیں تھا،ڈاکٹرز بھی موجود نہیں تھےاوروالدین کوخود اسپتال پہنچ کر اقدامات کرنا پڑے۔



