دورہ امریکا کے موقع پرایرانی صدراور ٹرمپ کی ملاقات کے امکانات تقریباً ختم ہوگئے

نیویارک(جانوڈاٹ پی کے)یران کے صدر مسعود پزشکیان کی امریکی ہم منصب ڈونلڈ ٹرمپ سے دورہ امریکا کے موقع پر ملاقات کے امکانات تقریباً مسدود ہوگئے۔

ایرانی وزارت خارجہ کے سینئر اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ایران سے بظاہر ڈیل سے متعلق ملے جلے پیغامات دینے والے امریکی صدر درحقیقت جارحانہ پالیسیاں اپنائے ہوئے ہیں۔

اہلکار نے کہا کہ صدرپزشکیان کی ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کا امکان اس لیے نہیں ہے کیونکہ امریکی صدر کا رویہ انتہائی سخت ہے اور وہ حالیہ تجاویز پر یکطرفہ پوزیشن اختیار کیے ہوئے ہیں۔

ایرانی وزارت خارجہ کے اس سینئر اہلکار نے صدر پزشکیان کی روانگی کے موقع پر دونوں صدور کی ممکنہ ملاقات سے متعلق سوال پر کہا تھاکہ اس کے امکانات انتہائی کم ہیں تاہم اب اسے تقریباً خارج از امکان قرار دیدیا ہے۔

مصدقہ ذرائع کا کہنا ہے کہ صدر پزشکیان کی امریکا سے وطن واپسی اتوار کو طے ہے اور بعض ممالک کی کوشش ہے کہ اس سے پہلے دونوں ملکوں کے صدور کی ون آن ون ملاقات کااہتمام کیا جائے۔

ذرائع کا کہنا ہےکہ صدرٹرمپ کی ایرانی ہم منصب سے ملاقات کسی مرحلے پر اگر ہوگی بھی تو اس کیلئے صدرپزشکیان کو ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ سید مجتبی حسینی خامنہ ای کی اجازت اور ہدایات کی ضرورت ہوگی۔

سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ ایران نے جنگ ختم کرنے اور دنیا کو یہ پیغام دینے کیلئے کہ وہ امن کا خواہاں ہے، اقوام متحدہ کے دورے سےپہلے ہی سات نکاتی امن تجاویز ثالثوں میں سے ایک قطر کے ذریعے امریکا کو بھجوادی تھیں اور اب اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے تحت 7  روز میں آبنائے ہرمز کھولنے کا لائحہ عمل بھی پیش کردیا ہے۔ تاہم امریکا نے ان تجاویز کا تاحال جواب نہیں دیا۔

تجاویز ایسے وقت بھی پیش کی گئی ہیں جب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا دعویٰ ہے کہ ایران یہ دیکھنا چاہتا ہے کہ امریکا کے مڈٹرم الیکشنز میں ان کی ری پبلکنز پارٹی کیسے نتائج حاصل کرتی ہے۔ دونوں ایوانوں پرکنٹرول کھونے کی صورت میں صدر ٹرمپ کو ایران جنگ کے معاملے پر ڈیموکریٹس کی جانب سے مواخذہ کا خدشہ درپیش ہے۔

امن مذاکرات التوا کا شکار کرنے سے متعلق سوال پر صدر پزشکیان نے واضح کیا کہ ایران نہیں چاہتا کہ معاملہ مڈٹرم الیکشنز تک لٹکا رہے۔ایران کی خواہش ہے کہ ان الیکشنز سے پہلے ہی امریکا مفاہتمی یادداشت پر لوٹے۔

امریکی میڈیا کو انٹرویو میں صدرپزشکیان نے ساتھ ہی دو ٹوک انداز میں یہ بھی واضح کیا کہ ایران جنگ نہیں چاہتا اور نہ ہی اس نے جنگ شروع کی تھی لیکن امریکا لڑائی جاری رکھنا چاہتا ہے تو ایران پوری قوت اور عزم سے جواب دے گا۔

صدر پزشکیان نے کہا کہ امریکا کی جانب سے جاری دباؤ کا مقصد یہ ہے کہ عالمی قوانین کے قانونی فریم ورک سے باہر ایران کو ہتھیار ڈالنے پر مجبور کیا جائے جو کہ ناممکن ہے۔

صدر پزشکیان نے کہا کہ ایران نے لیگل فریم ورک سے ہٹ کر کوئی مطالبہ کیا ہی نہیں اوردوسرا فریق تیار ہو تو ہم عالمی قانون کی بنیاد پر اور اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے تحت معاہدہ چاہتے ہیں۔

تاریخی اور جغرافیائی حوالہ دیتے ہوئے صدر پزشکیان کا کہنا تھاکہ جب سے آبنائے ہرمز ہے وہ ملک جو اس وقت سے اسکی ذمہ داری سنبھالے ہوئے ہے اگر اس کے جہازوں کو آبنائے میں حرکت کی اجازت نہ ہو تو یہ کیسے ہوسکتا کہ ایران کسی اور کے جہاز کا یہ حق تسلیم کرلے۔

ماضی میں مذاکرات کے دوران اور اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے باوجود ایران پر امریکی حملوں کا ذکر کرتے ہوئے صدر پزشکیان نے کہا کہ اگر ڈائیلاگ کے فریم ورک میں بھی ہم ایک دوسرے پر اعتماد نہیں کرسکتے تو کیسے توقع کی جاسکتی ہے کہ دوطرفہ اشوز کبھی حل کیے جاسکیں گے۔

مزید خبریں

Back to top button