پس پردہ مذاکرات تین سال سے جاری ہیں، حکومت پی ٹی آئی کو دیوار سے لگانا چاہتی ہے، شیر افضل مروت

اسلام آباد(جانوڈاٹ پی کے) پاکستان تحریک انصاف کے رہنما شیر افضل مروت نے کہا ہے کہ تحریک انصاف اور حکومت کے درمیان پس پردہ مذاکرات گزشتہ تین سال سے جاری ہیں، جبکہ حکومتی وزرا کے حالیہ بیانات کھلا چیلنج ہیں۔
نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے شیر افضل مروت نے کہا کہ لانگ مارچ شروع ہونے سے پہلے ہی بہت طویل ہوگیا ہے، جبکہ وزیراعلیٰ اب مذاکرات کی بات کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف بیک فٹ پر جبکہ حکومت کھل کر سیاسی میدان میں سرگرم ہے۔ ان کے مطابق خیبرپختونخوا تحریک انصاف کا واحد قلعہ ہے اور مقتدرہ و حکومت اسے بھی محروم کرنے پر غور کر رہے ہیں۔
شیر افضل مروت نے کہا کہ وہ گورنر راج کے حامی نہیں، کیونکہ اس اقدام سے متعلقہ سیاسی فریق خود کو سیاسی شہید بنا سکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا کے وزرا کو اٹھانے کی باتوں سے پہلے ہی شدید غصہ پایا جاتا ہے، جبکہ گورنر راج کے نفاذ سے نفرتوں میں مزید اضافہ ہوگا۔
پی ٹی آئی رہنما نے دعویٰ کیا کہ بانی پی ٹی آئی کی درست ہدایات پارٹی تک نہیں پہنچ رہیں، جب تک مرکزی قیادت کی بانی پی ٹی آئی سے ملاقات نہیں ہوتی، اس وقت تک صورتحال کے بارے میں کچھ کہنا مشکل ہے۔
انہوں نے کہا کہ بیرسٹر گوہر بانی پی ٹی آئی کی چوائس ہیں، تاہم پارٹی میں بانی کی پسند کو پذیرائی نہیں مل رہی۔ شیر افضل مروت نے مزید کہا کہ امکان ہے کہ مارچ سے پہلے ہی بعض رہنماؤں کا اپنا مارچ شروع ہوچکا ہوگا۔
شیر افضل مروت کے مطابق حکومتی تبدیلی کا کوئی طریقہ نکلنے کا امکان ہے، جبکہ بانی پی ٹی آئی نے احتجاج کی ذمہ داری جن افراد کو سونپی ہے، وہ ان کے بقول ’’رانگ نمبر‘‘ ہیں۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کی جانب سے بڑی تعداد میں کنٹینرز لگانا معمول کا طرز عمل نہیں تھا بلکہ اس سے حکومت کی جانب سے ’’پینک‘‘ کا مظاہرہ ظاہر ہوا۔



