پاکستان میں شارکس کی بقا خطرے میں!50سال میں تعداد85فیصد سے زائد کم ہونے کاانکشاف

اسلام آباد (جانو ڈاٹ پی کے) پاکستان نے شارکس اور دیگر سمندری حیات کے تحفظ کے لیے پہلا نیشنل پلان آف ایکشن فار شارکس 2025-2035 متعارف کرا دیا، جسے ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان نے سمندری حیات کے تحفظ کی جانب ایک اہم سنگ میل قرار دیا ہے۔
10 سالہ اس منصوبے کا بنیادی مقصد پاکستان کے سمندری پانیوں میں شارکس اور ریز کی کم ہوتی تعداد کو بحال کرنا، غیر ضروری شکار اور غیر قانونی فننگ یعنی شارک کے پروں کو کاٹنے کے عمل کی روک تھام، سمندری مسکن کا تحفظ، تحقیق اور نگرانی کے نظام کو بہتر بنانا اور ماہی گیری سے وابستہ ساحلی آبادیوں کے روزگار کو پائیدار بنانا ہے۔
ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان کے مطابق اس منصوبے کی ضرورت اس لیے بھی شدت سے محسوس کی گئی کہ 2021 میں ہونے والی ایک تحقیق میں انکشاف ہوا تھا کہ پاکستان میں شارکس کی لینڈنگ میں گزشتہ پانچ دہائیوں کے دوران 85 فیصد سے زیادہ کمی ریکارڈ کی گئی۔
ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان گزشتہ ایک دہائی سے زائد عرصے سے شارکس اور ریز کے تحفظ کے لیے کام کررہا ہے اور 2014 سے پاکستان میں شارکس کے لیے قومی ایکشن پلان متعارف کرانے کی وکالت کرتا رہا ہے۔
اس دوران حکومت، ماہی گیروں، سائنس دانوں اور دیگر متعلقہ شراکت داروں کے ساتھ مل کر تحقیق، عوامی آگاہی اور سمندری حیات کے تحفظ کے اقدامات کو فروغ دیا گیا۔
ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان کے سینئر ڈائریکٹر بائیو ڈائیورسٹی رب نواز نے قومی ایکشن پلان کو اہم سنگ میل قرار دیتے ہوئے کہا کہ اصل کامیابی اس منصوبے پر مؤثر عملدرآمد سے ہوگی۔
ان کے مطابق مضبوط نگرانی، قوانین کا مؤثر نفاذ، خطرے سے دوچار انواع اور اہم سمندری علاقوں کا تحفظ جبکہ ماہی گیر برادریوں کو اس عمل میں شامل کرنا انتہائی ضروری ہے۔
نئے قومی ایکشن پلان کے ذریعے شارکس اور ریز کے تحفظ کے ساتھ ساتھ ایسے اقدامات پر بھی توجہ مرکوز کی جائے گی جن سے ساحلی علاقوں میں رہنے والی ماہی گیر برادریوں کے معاشی مفادات متاثر ہوئے بغیر سمندری وسائل کا پائیدار استعمال ممکن بنایا جاسکے۔
ماہرین کے مطابق سمندری ماحولیاتی نظام میں شارکس اہم کردار ادا کرتی ہیں، اس لیے ان کی تعداد میں مسلسل کمی سمندری ماحول کے توازن کے لیے بھی تشویش کا باعث بن سکتی ہے۔
پاکستان کی جانب سے 10 سالہ قومی منصوبے کا اجرا اس تناظر میں اہم پیش رفت قرار دیا جارہا ہے، تاہم اس منصوبے کے اہداف کا حقیقی فائدہ اسی وقت سامنے آئے گا جب نگرانی، قانون پر عملدرآمد، تحقیق اور ساحلی برادریوں کی شمولیت کو عملی طور پر یقینی بنایا جائے گا۔



