سندھ میں سب سے زیادہ ترقیاتی کام کراچی میں ہو رہے ہیں، صوبے میں کوئی تبدیلی نہیں ہورہی، شرجیل میمن

کراچی (جانوڈاٹ پی کے)سندھ کے سینئر وزیر اور صوبائی وزیر اطلاعات، ٹرانسپورٹ و ماس ٹرانزٹ شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ آج شہیدِ جمہوریت محترمہ بے نظیر بھٹو کا یومِ ولادت ہے، تاہم محرم الحرام کے تقدس کے پیشِ نظر پاکستان پیپلز پارٹی یہ دن نہایت احترام اور عقیدت کے ساتھ منا رہی ہے۔ سندھ اسمبلی کے میڈیا کارنر پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ محترمہ بے نظیر بھٹو کو "دخترِ مشرق” کے معزز لقب سے یاد کیا جاتا ہے۔ انہوں نے آمریت کے اندھیروں کا جرأت، استقامت اور بہادری کے ساتھ مقابلہ کیا اور جمہوریت کی سربلندی و عوامی حقوق کے تحفظ کے لیے ایسی لازوال قربانی پیش کی جس کی مثال تاریخ میں کم ہی ملتی ہے۔
شرجیل انعام میمن نے کہا کہ شہید محترمہ بے نظیر بھٹو نے جمہوریت کی سربلندی، عوامی حقوق کے تحفظ اور آمریت کے خلاف تاریخی جدوجہد کی۔ انہوں نے قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں مگر جمہوریت کے راستے سے کبھی پیچھے نہیں ہٹیں۔ ان کے مطابق شہید بی بی جیسی عظیم، نڈر اور مدبر سیاسی رہنما کی مثال پورے خطے میں نہیں ملتی۔ خواتین کے حقوق کے لیے ان کی خدمات ناقابلِ فراموش ہیں۔ لیڈی ہیلتھ ورکرز کے نظام کے قیام سے لے کر خواتین کے لیے لیڈی پولیس اسٹیشنز کے قیام تک، انہوں نے ہمیشہ خواتین کو بااختیار بنانے کے لیے عملی اقدامات کیے۔ انہوں نے کہا کہ شہید بی بی جیسی بہادر اور عوامی خدمت کے جذبے سے سرشار قیادت آج تک پیدا نہیں ہوئی اور دنیا بھر میں پاکستان کی پہچان ان کی شخصیت اور جدوجہد سے جڑی رہی۔
انہوں نے کہا کہ جب محترمہ بے نظیر بھٹو 18 اکتوبر کو پاکستان واپس آئیں تو انہیں سنگین خطرات کا سامنا تھا، تاہم وہ عوام کی محبت اور جمہوریت کے عزم کے ساتھ وطن واپس آئیں۔ بعد ازاں انہیں راولپنڈی میں شہید کر دیا گیا۔ شرجیل انعام میمن نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی وہ واحد سیاسی جماعت ہے جس کی قیادت نے جمہوریت کے لیے عظیم قربانیاں پیش کیں اور جس کے قائدین و کارکنان نے جمہوریت کی بقا کے لیے اپنی جانوں کے نذرانے دیے۔
انہوں نے مزید کہا کہ آج کا دن اس لیے بھی اہم ہے کہ دنیا میں امن کے لیے پاکستان کی کوششیں رنگ لے آئی ہیں۔ امن کے قیام کے لیے پاکستان نے جو اہم کردار ادا کیا، آج دنیا اسے تسلیم کرے گی۔ اس حوالے سے جنرل عاصم منیر کے کردار کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ انہوں نے بھی اہم ذمہ داریاں ادا کی ہیں۔
شرجیل انعام میمن نے سندھ اسمبلی کے رکن نعیم احمد کھرل کے انتقال پر دلی افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ ان کے قریبی ساتھی تھے اور مشکل وقت میں پاکستان پیپلز پارٹی کے ساتھ ثابت قدمی سے کھڑے رہے۔ انہوں نے کہا کہ نعیم احمد کھرل کی سیاسی خدمات اور پارٹی کے لیے جدوجہد ہمیشہ یاد رکھی جائے گی۔ ان کے انتقال کے باعث اسمبلی کا اجلاس بھی روایت کے مطابق جلد ملتوی کیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ ہم سب اس کامیابی پر قوم کو مبارکباد پیش کرتے ہیں اور دشمن ممالک اپنے ناپاک عزائم میں ناکام رہے ہیں۔ ان کے مطابق دنیا پاکستان کو امن کے داعی ملک کے طور پر دیکھ رہی ہے۔
ایک سوال کے جواب میں شرجیل انعام میمن نے کہا کہ اپوزیشن کی صورتحال سب کے سامنے ہے اور وہ باہمی اختلافات اور اندرونی انتشار کا شکار ہے۔ ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ان کی قیادت ایک ہی ہے اور ان کی قیادت بخوبی جانتی ہے کہ وہ ان دنوں کہاں تھے اور اپنی ذمہ داریاں کس طرح ادا کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ وہ آمرانہ سوچ کے قائل نہیں اور اگر اپوزیشن تنقید کرتی ہے تو یہ جمہوری عمل کا حصہ ہے۔
ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ سندھ میں سب سے زیادہ ترقیاتی کام کراچی میں ہو رہے ہیں۔ عوامی سہولیات، انفراسٹرکچر اور شہری ترقی کے منصوبوں پر بھرپور توجہ دی جا رہی ہے۔ شہر کی بہتری، جدید سہولیات کی فراہمی اور شہری انفراسٹرکچر کی ترقی حکومت سندھ کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔
ایک سوال کے جواب میں شرجیل انعام میمن نے کہا کہ یلو لائن بی آر ٹی میں ایڈوانس ادائیگی کی گئی تھی اور حکومت نے خود اس ادائیگی کے ذمہ دار افسر کے خلاف کارروائی کی سفارش کی تھی۔ انہوں نے کہا کہ بی آر ٹی کے لاٹ ون میں مکس ٹریفک لین جلد کھولی جا رہی ہے جس سے شہریوں کو سفری سہولیات میں مزید بہتری اور آسانی میسر آئے گی۔
انہوں نے مزید کہا کہ سندھ میں سڑکیں بہتر معیار کے ساتھ تعمیر کی گئی ہیں اور عوام کو محفوظ اور آرام دہ سفری سہولیات کی فراہمی کے لیے مسلسل اقدامات جاری ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت نے ماضی میں سندھ کو اس کے جائز حقوق اور وسائل کی فراہمی کے معاملے میں اکثر نظر انداز کیا۔
ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ٹرانسپورٹرز کو قانون کی پاسداری کرنی چاہیے اور قانون سے بچنے کی کوشش کسی صورت درست عمل نہیں ہے۔ حکومت نے ٹریفک قوانین کی خلاف ورزیوں پر بھاری جرمانے عائد کیے ہیں تاکہ شہریوں کی حفاظت اور ٹریفک نظام کو بہتر بنایا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ یہ درست نہیں کہ کوئی خلاف ورزی کرے، چالان ہو اور پھر جرمانہ بھی ادا نہ کرے۔ قانون سب کے لیے یکساں ہے اور اس پر عمل درآمد ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت ٹرانسپورٹرز کے مسائل کو سمجھتی ہے، لیکن نظم و ضبط، قانون کی عملداری اور عوام کے تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔
ایک اور سوال کے جواب میں سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا کہ صوبے میں کوئی تبدیلی نہیں ہو رہی اور بعض عناصر کی جانب سے پھیلایا جانے والا تاثر حقائق کے برعکس ہے۔ انہوں نے کہا کہ کچھ اینکرز کی عادت بن چکی ہے کہ وہ حقائق کے بجائے قیاس آرائیوں اور پروپیگنڈے کو بنیاد بناتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس وقت صوبے میں ایک باصلاحیت اور عوامی خدمت کے جذبے سے سرشار وزیر اعلیٰ موجود ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی آزادیٔ اظہارِ رائے اور جمہوری اقدار پر یقین رکھتی ہے اور پیکا جیسے قوانین کے استعمال کے حوالے سے پارٹی کا مؤقف واضح ہے کہ آزادیٔ اظہارِ رائے کا تحفظ ضروری ہے۔



