​ڈی این اے کے بعد ملزمان کے لیے ‘ہاف فرائی، فل فرائی’ کا خطرہ! سیاسی میدان میں استعفوں کی گونج اور بلوچستان میں خون کی ہولی!

لاہور: خصوصی رپورٹ (جانو ڈاٹ پی کے)​لاہور میں غیر ملکی خواتین کے ساتھ ہونے والی زیادتی کے انتہائی ہائی پروفائل کیس میں اب سب سے بڑا اور سنسنی خیز موڑ ‘ہاف فرائی اور فل فرائی’ کے پولیس فارمولے کا ہے۔ ڈی این اے رپورٹ میں تین ملزمان نواز، ساجد اور سکندر کی جانب سے زیادتی کی تصدیق اور سکندر کے احمد رضا ڈار کا قریبی عزیز ہونے کا انکشاف سامنے آنے کے بعد اب یہ معاملہ انتہائی سنگین صورتحال اختیار کر گیا ہے۔ اس قسم کے جنسی جرائم میں ملوث درندوں کے خلاف ماضی میں اپنایا جانے والا سی سی ڈی کا مخصوص ہاف فرائی (ملزم کو عمر بھر کے لیے معذور کرنا) یا فل فرائی (پولیس مقابلے میں پار کرنا) کا فارمولا اب ان گرفتار ملزمان پر بھی نافذ کرنے کے لیے کیس کو سی سی ڈی کے سپرد کیے جانے کے قوی امکانات ظاہر کیے جا رہے ہیں کیونکہ عوام میں ان درندوں کے خلاف شدید غصہ پایا جاتا ہے۔ دوسری جانب ماسٹر مائنڈ احمد رضا ڈار کے اسحاق ڈار اور شریف فیملی کے ساتھ قریبی خاندانی تعلق کی وجہ سے سیاسی حلقوں میں وفاقی وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار سے اخلاقی بنیادوں پر استعفے کے مطالبات زور پکڑتے جا رہے ہیں، تاہم وزیراعلیٰ مریم نواز اور ڈار فیملی نے کسی قسم کا دباؤ ڈالنے کے بجائے خود ملزم کو گرفتار کروا کر قانون کو فری ہینڈ دیا ہے۔ اسی دوران بلوچستان کے علاقے زیارت میں دہشت گردوں نے ایک بار پھر خونریزی کا گھناؤنا کھیل کھیلا ہے جہاں بی ایل اے کے بزدلانہ حملے میں دو ایس ایچ اوز سمیت نو پولیس اہلکار جاں بحق ہو گئے ہیں، جس کا اصل مقصد جولائی میں سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے ممکنہ دورہِ پاکستان اور گوادر آئل ریفائنری جیسے اربوں ڈالر کے منصوبے کو سبوتاژ کرنا ہے۔

​ان تمام سنسنی خیز اور ہائی پروفائل معاملات کی اندرونی کہانی جاننے کے لیے شکیل ملک کا وی لاگ مکمل دیکھنے کے لیے اس لنک پر کلک کریں: یہاں ویڈیو دیکھیں:

YouTube player

مزید خبریں

Back to top button