نئے صوبوں کی بحث میں خواجہ سعد رفیق نے اہم شرط رکھ دی

لاہور (جانو ڈاٹ پی کے)مسلم لیگ ن کے سینئر رہنما اور سابق وفاقی وزیر خواجہ سعد رفیق نے کہا ہے کہ پاکستان میں چھوٹے صوبے بنانے کی بات کی جا سکتی ہے، تاہم اس کے لیے وقت درست، طریقہ کار آئینی اور عمل جمہوری ہونا چاہیے۔
ایکس پر جاری اپنے بیان میں خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ دہشت گردی، سیاسی انارکی اور معاشی بدحالی جیسے سنگین مسائل میں گھرے پاکستان میں ان مسائل کے حل کے بجائے نئے صوبوں کے قیام کو ترجیح دینا مناسب نہیں ہوگا۔
انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ موجودہ حالات میں نئے صوبوں کی تشکیل کا معاملہ سیاسی نفرت، تلخی اور خلیج میں اضافے کا باعث بن سکتا ہے۔
سابق وفاقی وزیر نے کہا کہ اگر مقصد گورننس بہتر بنانا ہے تو سب سے پہلے آئینی تحفظ کے ساتھ این ایف سی طرز پر صوبائی فنانس کمیشن قائم کیے جائیں اور بااختیار مقامی حکومتوں کا نظام نافذ کیا جائے۔
خواجہ سعد رفیق کے مطابق صوبوں کو 18ویں ترمیم کے ذریعے ملنے والے اختیارات کو اضلاع اور نچلی سطح تک منتقل کیا جانا چاہیے تاکہ عوام کو حکمرانی اور وسائل تک براہِ راست رسائی حاصل ہو۔
انہوں نے کہا کہ ملک کو درپیش دہشت گردی کے مسئلے پر بھی فوری اور مؤثر توجہ درکار ہے۔ ان کے مطابق پوری قوم کوہاٹ حملے پر ریاستی ردعمل کی منتظر ہے اور وفاقی و صوبائی حکومتوں سمیت سکیورٹی اداروں کو مل کر مربوط حکمت عملی اختیار کرنی چاہیے۔
خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ قوم چاہتی ہے کہ تمام اسٹیک ہولڈرز اور ریاستی ادارے دہشت گردی کے خلاف متحد ہوکر عملی اقدامات کریں۔ ان کے بقول دہشت گردی، غربت اور ناانصافی سے نمٹنے کے بجائے ایک دوسرے سے لڑنے والی قوتیں ملک کو بحرانوں سے نہیں نکال سکتیں۔
نئے صوبوں کے قیام پر ملک میں حالیہ دنوں میں سیاسی بحث میں بھی اضافہ ہوا ہے، جبکہ مختلف رہنماؤں کی جانب سے انتظامی یونٹس، مقامی حکومتوں اور آئینی طریقہ کار سے متعلق مختلف تجاویز سامنے آئی ہیں۔



