آبنائے ہرمز ہی ایران کا جوہری ہتھیار ہے، نائب چیئرمین روسی سلامتی کونسل

تہران (ویب ڈیسک) روس کی سلامتی کونسل کے نائب چیئرمین اور سابق صدر دمتری میدویدیف نے کہا ہے کہ حالیہ جنگ کے دوران آبنائے ہرمز نے ایران کو غیر معمولی تزویراتی برتری فراہم کی اور یہی گزرگاہ ایران کا سب سے مؤثر تزویراتی ہتھیار ثابت ہوئی۔
ایرانی خبر رساں ادارے تسنیم کو انٹرویو دیتے ہوئے دمتری میدویدیف نے کہا کہ امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ کشیدگی کے باوجود روس، ایران کے ساتھ اپنی اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے کے لیے پرعزم ہے اور دونوں ممالک کے درمیان تعاون کا سلسلہ جاری رہے گا۔
دمتری میدویدیف یہ بیان تہران میں اس موقع پر دے رہے تھے جہاں وہ روسی وفد کی قیادت کرتے ہوئے ایران کے شہید سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی نماز جنازہ اور تدفین کی تقریبات میں شریک ہوئے۔
انہوں نے اپنے ایک اور بیان میں کہا کہ امریکہ کے خلاف جدوجہد میں ایرانی قوم مضبوطی کے ساتھ سامنے آئی ہے اور وہ کسی بھی بیرونی دباؤ کے سامنے جھکنے والی نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت نے ایرانی عوام کو پہلے سے زیادہ متحد کر دیا ہے اور روس اس مشکل گھڑی میں ایران کے ساتھ کھڑا ہے۔
دریں اثنا روسی وفد نے ایران کے صدر مسعود پزشکیان سے بھی ملاقات کی، جس میں دونوں ممالک کے درمیان طے پانے والے اسٹریٹجک معاہدوں پر تیز رفتار عملدرآمد اور باہمی تعاون کو مزید فروغ دینے پر اتفاق کیا گیا۔



