پاکستان وسطی ایشیا کے لیے نئے تجارتی دروازے کھولنے میں کامیاب

باکو(جانوڈاٹ پی کے)پاکستان وسطی ایشیائی ریاستوں کو گوادر اور کراچی کی بندرگاہوں کے ذریعے عالمی منڈیوں سے جوڑنے کے لیے متبادل تجارتی راستوں کو فعال بنا رہا ہے، جس سے ملک کے علاقائی ٹرانزٹ اور لاجسٹکس مرکز بننے کے امکانات مزید روشن ہو گئے ہیں۔ازبکستان نے پاکستان تک رسائی کیلئے افغانستان کو بائی پاس کردیا،رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ تاشقند نے پاک۔ایران سرحد پر واقع گبد۔ریمدان بارڈر کے ذریعے زرعی مشینری اور صنعتی خام مال کی ترسیل کا آغاز بھی کر دیا ہے۔
رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ اپریل 2026 میں فعال کیے گئے نئے تجارتی راہداری نے وسطی ایشیائی ممالک کو پاکستانی بندرگاہوں اور عالمی منڈیوں تک ایک اضافی اور متبادل رسائی فراہم کی ہے، جس سے علاقائی تجارت کے فروغ میں مدد مل رہی ہے۔
دی کیسپیئن پوسٹ کے مطابق اکتوبر 2025 میں سیکیورٹی خدشات کے باعث طورخم اور چمن سرحدی گزرگاہوں کی بندش کے بعد پاکستان نے متبادل تجارتی راستے متعارف کرائے، جن کے ذریعے اب تک14ہزار میٹرک ٹن سے زائد کارگو منتقل کیا جا چکا ہے۔ یہ اعداد و شمار نئے لاجسٹک نیٹ ورک پر بڑھتے ہوئے اعتماد اور طلب کی عکاسی کرتے ہیں۔



