ٹرمپ کی کم جونگ اُن سے قربت، ایشیائی اتحادی امریکا سے بداعتماد ہونے لگے

واشنگٹن (ویب ڈیسک) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ اُن کے ساتھ دوبارہ مذاکرات اور تعلقات بہتر بنانے کی کوشش نے ایشیا میں امریکا کے دیرینہ اتحادیوں میں تشویش پیدا کردی ہے۔

غیر ملکی خبررساں ادارے کے مطابق جنوبی کوریا کے ساتھ طویل عرصے سے جاری مشترکہ فوجی مشقوں میں کمی اور اگلے ماہ ہونے والی ایک اور مشق منسوخ کیے جانے کے بعد خطے میں یہ خدشات بڑھ رہے ہیں کہ امریکی صدر کی غیر متوقع پالیسی ایشیا میں موجود سکیورٹی اتحادوں کو کمزور کرسکتی ہے۔

امریکا نے فوجی مشق کی منسوخی کی وجہ ایران جنگ کے باعث امریکی افواج پر بڑھتے ہوئے دباؤ کو قرار دیا ہے۔ دوسری جانب ٹرمپ ایک مرتبہ پھر کم جونگ اُن کے ساتھ مذاکرات بحال کرنے کے خواہاں ہیں، تاہم پیانگ یانگ کی جانب سے اب تک سرد ردعمل سامنے آیا ہے۔ شمالی کوریا نے حال ہی میں جنوبی کوریا اور جاپان کے قریب بیلسٹک میزائل بھی فائر کیے ہیں۔

جاپان میں بھی امریکی پالیسی پر تشویش بڑھ رہی ہے۔ سابق جاپانی وزیر دفاع اتسونوری اونودیرا نے خبردار کیا کہ شمالی کوریا سے قربت کی امریکی کوشش جوہری ہتھیار رکھنے والے پیانگ یانگ کو مزید حوصلہ دے سکتی ہے، جو ٹوکیو کے لیے تشویشناک صورتحال ہوگی۔

تائیوان بھی امریکا اور چین کے تعلقات میں ہونے والی پیش رفت پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔ ٹرمپ کی چینی صدر شی جن پنگ سے متوقع ملاقات اور تائیوان کو تقریباً 14 ارب ڈالر کے اسلحے کی فروخت سے متعلق فیصلوں نے تائی پے میں بھی بے چینی پیدا کردی ہے۔

بھارت میں بھی واشنگٹن کے ساتھ طویل مدتی دفاعی تعاون کے حوالے سے احتیاط بڑھ گئی ہے۔ بھارتی حکام کے مطابق تجارتی اور دفاعی معاملات میں امریکا کے لین دین پر مبنی رویے نے نئی دہلی کو مستقبل کے دفاعی معاہدوں کے بارے میں زیادہ محتاط کردیا ہے۔

ماہرین کے مطابق ایران جنگ میں امریکی وسائل کی منتقلی بھی ایشیا میں امریکی عسکری موجودگی کو متاثر کررہی ہے۔ امریکی طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس جارج واشنگٹن کو بھی مشرق وسطیٰ منتقل کیے جانے سے چین کے مقابلے میں امریکی دفاعی صلاحیت اور خطے میں اس کی روک تھام کی حکمت عملی پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔

یوں ٹرمپ کی شمالی کوریا کے ساتھ دوبارہ تعلقات بہتر بنانے کی کوشش ایک جانب سفارتی کامیابی کی کوشش نظر آتی ہے، تاہم دوسری جانب اس نے ایشیا میں امریکا کے اتحادیوں کو واشنگٹن کی طویل مدتی سکیورٹی ضمانتوں کے بارے میں مزید محتاط کردیا ہے۔

مزید خبریں

Back to top button