این سی سی آئی اے انکوائری پر محمد رضوان کا مؤقف سامنے آگیا، تحریری معلومات مانگ لیں

لاہور (جانو ڈاٹ پی کے)قومی کرکٹ ٹیم کے وکٹ کیپر بیٹر محمد رضوان نے اپنے خلاف جاری انکوائری کے حوالے سے نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کو ایک بار پھر خط لکھ دیا۔

محمد رضوان نے اپنے دوسرے خط میں مؤقف اختیار کیا کہ انہیں انکوائری سے متعلق تاحال تحریری طور پر کوئی معلومات فراہم نہیں کی گئیں اور نہ ہی مزید کارروائی کے حوالے سے این سی سی آئی اے کی جانب سے ان سے رابطہ کیا گیا ہے۔

خط کے مطابق محمد رضوان کا کہنا ہے کہ 31 اگست کو انگلینڈ میں ان سے موبائل فون لیا گیا تو انہوں نے اس کا پاس ورڈ فراہم کردیا تھا۔ ان کے مطابق ان کی موجودگی میں موبائل فون کا معائنہ کیا گیا۔

رضوان نے بتایا کہ 10 ستمبر کو این سی سی آئی اے میں پیشی کے موقع پر بھی حکام کو ان کے اَن لاک موبائل فون تک رسائی حاصل تھی اور ان کی موجودگی میں فون کے پیغامات اور دیگر مواد کا جائزہ لیا گیا۔قومی کرکٹر نے خط میں کہا کہ 31 اگست کو موبائل فون یہ یقین دہانی کروا کر لیا گیا تھا کہ اسے تین گھنٹے کے اندر واپس کردیا جائے گا، جبکہ انہیں بتایا گیا تھا کہ فون کا ڈیجیٹل فارنزک بھی جلد مکمل کرلیا جائے گا۔محمد رضوان نے مؤقف اختیار کیا کہ انہوں نے کسی بھی مرحلے پر موبائل فون کا پاس ورڈ فراہم کرنے سے انکار نہیں کیا اور وہ این سی سی آئی اے کے ساتھ مطلوبہ معلومات کے حوالے سے تعاون کرتے رہے ہیں۔انہوں نے این سی سی آئی اے سے درخواست کی کہ انہیں انکوائری کی وجوہات سے تحریری طور پر آگاہ کیا جائے اور بتایا جائے کہ دوبارہ حاضری کے لیے انہیں کس تاریخ اور وقت طلب کیا گیا ہے۔رضوان نے اپنے خط میں مطالبہ کیا کہ ان کا موبائل فون، جو تاحال حکام کے پاس ہے، بغیر مزید تاخیر واپس کیا جائے۔ انہوں نے یہ بھی درخواست کی کہ آئندہ رابطے کے لیے سرکاری طریقہ کار اختیار کیا جائے اور ان سے ان کے گھر کے پتے پر رابطہ کیا جائے۔

مزید خبریں

Back to top button