بدین:دھان کی قیمت میں کمی،کاشتکاروں کا سندھ حکومت سے فوری اقدامات کا مطالبہ

بدین (رپورٹ مرتضیٰ میمن/جانو ڈاٹ/ پی کے)زیرین سندھ کے آبادگار مسلسل تین سال سے دھان کی فصل کی مناسب قیمت نہ ملنے پر شدید مالی بحران کا شکار دھان کی فصل کی کٹائی شروع اور مارکیٹ میں آ تے ہی رائس ملز مالکان اور چاول کے ایکسپورٹرز نے دھان کی فی من قیمت 3200  سے کم کرکے 2300 روپے فی من کردی ہے آبادگاروں جس سے دھان کے کاشتکار اور کسان کو زبردست معاشی مشکلات کا سامنا ہے تفصیل کے مطابق زیرین سندھ کے آبادگاروں نے مسلسل تین سال سے دھان کی مناسب قیمت نہ ملنے پر شدید مالی مشکلات کا سامنا کرنے کی شکایت کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ نئی فصل کے لیے دھان کا نرخ ہر صورت کم از کم 4000روپے فی من مقرر کیا جائے کاشتکاروں اور کسانوں کا کہنا ہے کہ ہر سال دھان کی فصل تیار ہونے پر امید ہوتی ہے کہ مناسب قیمت ملے گی جس سے زرعی قرضے ادا کرنے گھریلو اخراجات پورے کرنے اور آئندہ فصل کی تیاری میں مدد ملے گی تاہم گزشتہ تین برس سے مناسب معاوضہ نہ ملنے کے باعث وہ مسلسل قرضوں کے بوجھ تلے دب رہے ہیں کاشتکاروں کے مطابق پانی زرعی پانی کی فراہمی کا ناقص نظام اور بیج کھاد، ڈیزل، زرعی ادویات، مزدوری،  اور بجلی سمیت زرعی اخراجات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، لیکن فصل مارکیٹ میں پہنچتے ہی رائس ملز مالکان اور چاول کے ایکسپورٹرز جن میں اکثریت رائس ملز مالکان اور حکومتی بینچوں پر بیٹھے با اثر افراد کی ہے ملی بگھت کرکے دھان کی  قیمت خرید میں کمی کرنے کے ساتھ کو کوڈنگ ان لوڈنگ کی مزدوری اور ایک من دھان پر تین کلو کچرہ اور نمی کے بہانے  کٹوتی کر کے کاشتکاروں اور کسانوں سے لوٹ مار کر رہے ہیں جس کے باعث دھان کے فصل کی کاشتکاری پر آ نے والے اخراجات جتنی رقم بھی نہیں ملتی انہوں نے کہا کہ فصل کی قیمت کم ہونے سے کاشتکاروں اور کسانوں میں مزید تشویش پیدا کردی ہے ان کا کہنا ہے کہ اگر پیداوار کی مناسب سے قیمت نہ ملی تو پہلے سے موجود قرضوں میں مزید اضافہ ہوگا اور آئندہ دھان کی فصل کی کاشت بھی متاثر ہوسکتی ہے زیرین سندھ کے آبادگاروں نے سندھ حکومت اور منتخب نمائندوں سے مطالبہ کیا ہے کہ دھان کا کم از کم 4000 روپے فی من خرید نرخ مقرر کیا جائے تاکہ انہیں اپنی محنت اور پیداوار کا جائز معاوضہ مل سکے اور وہ زرعی قرضوں اور بڑھتے اخراجات کا بوجھ کم کرسکیں مقامی کاشتکاروں عبد الحفیظ میمن، عبد الغفور چانڈیو اصغر علی ملاح ودیگر کا کہنا ہے کہ یہ صرف کسان کا نہیں بلکہ ہزاروں زرعی خاندانوں کے روزگار اور معاشی استحکام کا مسئلہ ہے۔

مزید خبریں

Back to top button