48لاکھ بچوں کی اے آئی سے مارکنگ، پنجاب کے امتحانی نظام میں بڑی تبدیلی کا انکشاف

لاہور (جانو ڈاٹ پی کے) صوبائی وزیر تعلیم رانا سکندر حیات نے جماعت اسلامی کی جانب سے نویں جماعت کے امتحانات کے نتائج، نواز شریف اسکولز اور اسکول آؤٹ سورسنگ پر کی جانے والی تنقید پر ردعمل دیتے ہوئے پنجاب کے تعلیمی نظام میں ہونے والی اصلاحات اور مختلف اقدامات کے اعداد و شمار پیش کردیے۔

رانا سکندر حیات کے مطابق پنجاب میں شرح خواندگی 67 فیصد سے بڑھ کر 69 فیصد ہوگئی ہے، جبکہ سندھ اور خیبر پختونخوا میں یہ شرح 58 فیصد ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پنجاب کے سرکاری اسکولوں میں روزانہ 12 لاکھ بچوں کو غذائیت فراہم کی جا رہی ہے۔

صوبائی وزیر تعلیم نے دعویٰ کیا کہ آؤٹ سورس کیے گئے اسکولوں میں طلبہ کی تعداد ایک سال کے دوران 5 لاکھ 50 ہزار سے بڑھ کر 10 لاکھ 16 ہزار ہوگئی، جبکہ داخلوں میں 121 فیصد اضافہ ہوا۔ ان کے مطابق ان اسکولوں میں اساتذہ کی تعداد بھی 16 ہزار 406 سے بڑھ کر 83 ہزار ہوگئی ہے۔

رانا سکندر حیات کا کہنا تھا کہ آؤٹ سورس اسکولز کا مجموعی رزلٹ 81 فیصد رہا جبکہ 42 فیصد طلبہ نے اے اور اے پلس گریڈ حاصل کیے۔ پنجاب میں اب تک 13 ہزار اسکولز آؤٹ سورس کیے جاچکے ہیں اور ان اداروں میں تعلیم اور کتابیں مفت فراہم کی جا رہی ہیں۔

انہوں نے جماعت اسلامی کی تنقید کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جماعت اسلامی کی فاؤنڈیشن خود بھی آؤٹ سورس اسکولز وصول کر رہی ہے۔ ان کے مطابق اسکولز آف ایمننس میں مصنوعی ذہانت اور روبوٹکس لیبز قائم کی جا رہی ہیں جبکہ اخراجات میں 30 فیصد بچت کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔

امتحانی نظام کے حوالے سے صوبائی وزیر نے کہا کہ پنجاب میں نقل کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کیا گیا اور شفافیت کیلئے 15 تعلیمی بورڈز میں اقدامات کیے گئے ہیں۔ ان کے مطابق آٹھویں جماعت کے 48 لاکھ بچوں کی آن اسکرین مارکنگ کی گئی اور پہلی بار مارکنگ کیلئے اے آئی کا استعمال کیا گیا۔

رانا سکندر حیات نے کہا کہ پیپر سیٹنگ، چیکنگ اور عملی امتحانات کا نظام مزید شفاف بنایا گیا ہے۔ ان کے مطابق اگلے سال نویں جماعت کے نتائج میں 6 سے 8 فیصد بہتری متوقع ہے اور نمایاں فرق نظر آئے گا۔

نئے نصاب کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ پنجاب میں پہلی سے پانچویں جماعت تک نیا نصاب رواں سال نافذ کیا جائے گا، جس میں مصنوعی ذہانت سمیت جدید تعلیم پر توجہ دی گئی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ خیبر پختونخوا بھی پنجاب کے ماڈل کو دیکھتے ہوئے تقریباً 700 اسکولز آؤٹ سورس کر رہا ہے۔

صوبائی وزیر تعلیم نے سرکاری کالجز میں داخلوں میں اضافے کا بھی ذکر کیا۔ ان کے مطابق سرکاری کالجز میں طلبہ کی تعداد 2 لاکھ 7 ہزار سے بڑھ کر ڈھائی لاکھ سے تجاوز کر گئی ہے، جبکہ 850 میں سے 550 کالجز میں مستقل پرنسپلز تعینات کیے جاچکے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ 200 سرکاری کالجز میں 30 سے 50 کمپیوٹرز پر مشتمل جدید لیبز قائم کی گئی ہیں جبکہ کالجز میں ہر ماہ امتحانات کا نظام بھی شروع کیا گیا ہے۔

یونیورسٹیوں کے حوالے سے رانا سکندر حیات نے کہا کہ پنجاب یونیورسٹی میں داخلے 12 ہزار سے بڑھ کر 16 ہزار، یو ایم ٹی میں 12 ہزار سے 19 ہزار، کمالیہ یونیورسٹی میں 400 سے 2600، ویٹرنری یونیورسٹی لاہور میں 550 سے 3200 جبکہ غازی یونیورسٹی ڈی جی خان میں داخلے 4200 سے بڑھ کر تقریباً 9 ہزار ہوگئے ہیں۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ سرکاری جامعات میں داخلوں میں مجموعی طور پر نمایاں اضافہ ہوا ہے اور ٹائمز رینکنگ میں پنجاب کی جامعات نے بھی نمایاں پوزیشنز حاصل کی ہیں۔

مزید خبریں

Back to top button