پیپلز پارٹی کو ٹھکانے لگانے کی تیاریاں،مقتدرحلقوں کادھماکہ خیز”پلان بی”ایکٹو!

​اسلام آباد(خصوصی رپورٹ:جانو ڈاٹ پی کے)​پاکستان کی سیاست میں ایک اور ہولناک اور سنسنی خیز موڑ آ گیا ہے جہاں28ویں آئینی ترمیم کے معاملے پر صدر آصف علی زرداری اور پیپلز پارٹی کی مزاحمت کے بعد فیصلہ سازوں نے انتہائی خفیہ طور پر "پلان بی” ایکٹو کر دیا ہے۔

ذرائع کے مطابق مقتدر حلقے ہر صورت این ایف سی ایوارڈ میں وفاق کا حصہ بڑھانے، نئے صوبوں کے قیام کو آسان بنانے، گورنر راج اور پارلیمانی نظام میں بنیادی تبدیلیاں لانے کے لیے آئینی ترمیم کے خواہاں ہیں،مگر پیپلز پارٹی اس عسکری و سیاسی پیکیج کے سامنے سب سے بڑی رکاوٹ بن چکی ہے۔ پیپلز پارٹی کے اس کڑے انکار کے بعد فیصلہ سازوں نے پی پی پی کا الٹرنیٹ (متبادل) تلاش کر لیا ہے اور پارلیمنٹ میں دو تہائی اکثریت پوری کرنے کے لیے تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے حمایت یافتہ اراکین کو ان بورڈ لینے کا ٹاسک شروع کر دیا ہے۔ اس سنسنی خیز پلان کے تحت عید سے ایک دن قبل منگل کو اڈیالہ جیل میں دو سے ڈھائی گھنٹے تک غیر معمولی سکیورٹی نافذ کر کے انتہائی خفیہ اور بڑی ملاقاتیں کروائی گئی ہیں جس کے بعد پی ٹی آئی کی سیاسی کمیٹی نے محمود خان اچکزئی اور راجہ ناصر عباس کو حکومت سے مذاکرات کا مکمل اختیار دے دیا ہے۔ دوسری جانب وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی اس سارے کھیل میں غیر معمولی طور پر ایکٹو ہو چکے ہیں اور پی ٹی آئی رہنما سہیل آفریدی سے ان کی اہم ترین ملاقات کے بعد خیبر پختونخوا کی سیاست اور بشرٰی بیبی کے معاملے پر برف پگھلنے لگی ہے۔ مقتدر حلقوں کی اس نئی شطرنج، پیپلز پارٹی کو دیوار سے لگانے کے اس بڑے منصوبے اور اڈیالہ جیل کے خفیہ دوروں کے سچے احوال جاننے کے لیے صحافی شکیل ملک کا یہ وی لاگ مکمل دیکھیں۔

YouTube player

مزید خبریں

Back to top button