ریسرچ کے نام پر ہولناک حیاتیاتی ہتھیاروں کی تیاری ؟ روس کے پراسرار جزیرے پر ہونے والی خفیہ کاروائیاں

نہال معظم
روس کے ایک دور افتادہ جزیرے پر برسوں سے عام لوگوں کا داخلہ محدود ہے، مگر اب یہ پراسرار جگہ عالمی توجہ کا مرکز بن گئی ہے۔ روسی سروس ریڈیو فری یورپ/ریڈیو لبرٹی اور اس کے تحقیقاتی یونٹ ’’سیستما‘‘ کی ستمبر 2026 میں سامنے آنے والی ایک تفصیلی تحقیق کے مطابق، پانی میں گھرے اس جزیرے پر ایک جدید تحقیقی مرکز قائم کیا گیا ہے جہاں خطرناک وائرسوں پر تحقیق ہو رہی ہے، جبکہ اس مرکز کے سربراہ کا ماضی روسی فوج کے حساس حیاتیاتی تحقیقی ادارے سے جڑا ہوا ہے۔ تحقیقات نے سوال اٹھایا ہے کہ کہیں بیماریوں پر تحقیق کے نام پر یہاں روس کی حیاتیاتی جنگی صلاحیت تو نہیں بڑھائی جا رہی؟
یہ جزیرہ ماسکو کے شمال مغرب میں ٹور کے علاقے میں وشنے وولوتسکوئے نامی بڑے آبی ذخیرے کے اندر واقع ہے۔ اس کا نام لیسی جزیرہ ہے۔ کبھی یہاں مقامی لوگ سیر کرنے، مچھلی پکڑنے اور جنگلی پھل جمع کرنے آیا کرتے تھے، لیکن تقریباً تین سال پہلے اس علاقے کے شمالی حصے کو محفوظ قدرتی علاقہ قرار دے کر کئی جزیروں تک عام لوگوں کی رسائی محدود کر دی گئی۔
لیکن لیسی جزیرے کی کہانی آج سے شروع نہیں ہوتی۔ روسی سلطنت کے زمانے میں یہاں جانوروں کی بیماریوں پر تحقیق کرنے والی ایک لیبارٹری موجود تھی۔ سوویت دور میں بھی اسی جگہ مویشیوں اور پرندوں میں پھیلنے والی متعدی بیماریوں پر تحقیق کی جاتی رہی۔ یعنی پانی میں چھپا یہ چھوٹا سا جزیرہ کئی دہائیوں سے ایسی حساس سائنسی سرگرمیوں سے جڑا رہا ہے جن میں خطرناک بیماریوں اور وائرسوں کا مطالعہ شامل تھا۔
پھر کئی برس تک یہ جگہ تقریباً خاموش رہی، یہاں تک کہ تقریباً پانچ سال پہلے یہاں اچانک نئی سرگرمیاں شروع ہو گئیں۔ پرانی عمارتوں کو ایک نئے تحقیقی مرکز میں تبدیل کیا گیا اور ’’مرکز برائے تجرباتی فزیالوجی‘‘ قائم کر دیا گیا۔ اس کے ساتھ ہی جزیرے پر ایک جدید ترین لیبارٹری کی تعمیر بھی شروع ہوئی۔
یہ کوئی معمولی تعمیر نہیں تھی۔ 2025 کے موسم خزاں تک لیبارٹری کی عمارت مکمل ہو چکی تھی، جبکہ 2026 میں لی گئی سیٹلائٹ تصاویر میں ایک بڑی لیبارٹری، عملے اور مہمانوں کے لیے مخصوص جگہیں، سبزہ زار اور ہیلی کاپٹر اترنے کے لیے الگ مقام بھی دکھائی دیا۔
اور پھر اس کہانی کا سب سے اہم کردار سامنے آتا ہے: ولادیمیر ماکسیموف۔
لیسی جزیرے کے اس مرکز کی سربراہی ماکسیموف کے پاس ہے، لیکن ان کا ماضی کسی عام طبی تحقیقی ادارے سے وابستہ نہیں۔ وہ روسی وزارت دفاع کے ایک انتہائی حساس تحقیقی ادارے سے طویل عرصے تک وابستہ رہے ہیں، جسے مغربی ممالک روس کے حیاتیاتی ہتھیاروں کے پروگرام سے جوڑتے رہے ہیں۔
ماکسیموف کی اپنی تحقیق بھی اس معاملے کو مزید پراسرار بنا دیتی ہے۔ وہ ایبولا اور ماربرگ جیسے انتہائی خطرناک وائرسوں پر کام کر چکے ہیں۔ یہ دونوں وائرس سوویت دور میں حیاتیاتی ہتھیاروں کی تیاری کے ممکنہ ذرائع کے طور پر بھی زیر غور رہے تھے۔
حیران کن بات یہ ہے کہ ماکسیموف نے تقریباً دو دہائیاں قبل ایک روسی فوجی جریدے کو انٹرویو دیتے ہوئے خود کہا تھا کہ ایبولا حیاتیاتی ہتھیار کے لیے استعمال ہونے والے اہم عوامل میں شامل ہو سکتا ہے۔
ماکسیموف کئی سال تک روسی فوج کے ایک وائرس تحقیقاتی یونٹ کے سربراہ بھی رہے۔ بعد میں یہی یونٹ روسی وزارت دفاع کے مرکزی تحقیقی ادارے کی شاخ 48 میں تبدیل ہو گیا۔ مغربی انٹیلی جنس اداروں کے مطابق یہ ادارہ سوویت یونین کے پرانے حیاتیاتی ہتھیاروں کے پروگرام سے جڑے ڈھانچے کا حصہ سمجھا جاتا ہے۔
یعنی آج جس دور افتادہ جزیرے پر خطرناک وائرسوں کی تحقیق کے لیے جدید مرکز قائم کیا گیا ہے، اس کا سربراہ ماضی میں روسی فوج کے اسی حساس حیاتیاتی تحقیقی نظام کا حصہ رہ چکا ہے۔
اب کہانی میں ایک نیا موڑ آتا ہے۔
یوکرین کی فوجی انٹیلی جنس نے حال ہی میں دعویٰ کیا کہ لیسی جزیرے پر قائم مرکز میں روسی فوجی مقاصد کے لیے خطرناک وائرسوں اور دوسرے بیماری پھیلانے والے جراثیم پر تحقیق کی جا رہی ہے۔ اس دعوے نے اس جزیرے کے بارے میں پہلے سے موجود سوالات کو مزید اہم بنا دیا ہے۔
تحقیق کرنے والے صحافیوں نے بھی اس مرکز اور روسی فوج کے درمیان ایک اہم تعلق دریافت کیا، اور وہ تعلق خود اس کے سربراہ ماکسیموف ہیں۔ صحافیوں نے ان سے رابطہ کرکے مرکز کی سرگرمیوں کے بارے میں وضاحت لینے کی کوشش کی، لیکن انہوں نے سوالات کا جواب نہیں دیا۔
اس معاملے میں وقت کا انتخاب بھی خاصا دلچسپ ہے۔ لیسی جزیرے اور روس کے ایک دوسرے اہم تحقیقی مرکز، سرگئیف پاساد، میں بڑی تعمیر اور توسیع تقریباً پانچ سال پہلے شروع ہوئی۔ یہ وہی وقت تھا جب دنیا کووڈ 19 کی وبا سے نکلنے کی کوشش کر رہی تھی اور روس یوکرین کے خلاف بڑے فوجی اقدام کی تیاری کر رہا تھا۔
روسی ادارے اسی دوران کووڈ ویکسین کی تیاری میں بھی شامل تھے۔ روس کا مؤقف ہے کہ اس عرصے میں تحقیقی مراکز کی توسیع کا مقصد بیماریوں سے نمٹنے کی صلاحیت بڑھانا تھا۔ لیکن حیاتیاتی ہتھیاروں کے ماہرین کے مطابق اس توسیع کے وقت اور روس کی جنگی تیاریوں کو ایک ساتھ دیکھنے سے کئی سوال پیدا ہوتے ہیں۔
لیسی جزیرے کا انتخاب بھی ماہرین کی توجہ کھینچ رہا ہے۔ پانی سے گھرا اور عام آبادی سے دور مقام خطرناک جراثیم پر تحقیق کے لیے زیادہ محفوظ سمجھا جاتا ہے، کیونکہ کسی حادثے کی صورت میں بیماری کے عام آبادی تک پہنچنے کا خطرہ کم ہو سکتا ہے۔
اور سوویت یونین ایسا پہلے بھی کر چکا ہے۔سوویت دور میں بحیرہ ارال کے ایک دور افتادہ جزیرے وازروژدینیا پر بھی حیاتیاتی ہتھیاروں کے پروگرام سے متعلق اہم تحقیق کی جاتی تھی۔ وہ جزیرہ بھی پانی سے گھرا ہوا تھا اور عام لوگوں سے دور تھا۔ یہی وجہ ہے کہ ماہرین لیسی جزیرے کے موجودہ مقام کو روس کی پرانی حیاتیاتی تحقیق کی تاریخ کے تناظر میں بھی دیکھ رہے ہیں۔
لیسی جزیرے کی کہانی صرف ایک لیبارٹری تک محدود نہیں۔ اس مرکز کی نگرانی کرنے والی روسی وفاقی طبی و حیاتیاتی ایجنسی بھی کئی انتہائی حساس شعبوں میں کام کرتی ہے۔ یہ ادارہ خلا بازوں، پیشہ ور کھلاڑیوں اور مشکل یا محدود ماحول میں کام کرنے والے افراد کو طبی سہولیات فراہم کرنے کے علاوہ کیمیائی، حیاتیاتی اور تابکاری سے متعلق ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کا ذمہ دار بھی ہے۔
دو سال قبل اس ادارے کی نگرانی روسی حکومت سے براہ راست صدر ولادیمیر پوتین کے ماتحت کر دی گئی۔ پوتین اس ادارے کے حکام سے باقاعدگی سے ملاقات کرتے ہیں اور اسے روس کی ’’خصوصی طبی فورس‘‘ بھی قرار دے چکے ہیں۔
یہ ادارہ ایک اور انتہائی حساس معاملے میں بھی سامنے آ چکا ہے۔ الیکسی ناوالنی اور سابق روسی انٹیلی جنس افسر سرگئی اسکریپال کو زہر دیے جانے کے واقعات میں نوویچوک نامی اعصابی زہر کا معاملہ سامنے آیا تھا۔ تحقیقات کے دوران اسی روسی طبی و حیاتیاتی نظام سے وابستہ بعض اداروں کے نام بھی زیر بحث آئے۔
ایک اور تحقیقات میں اسی نظام سے وابستہ ایک ادارے کا تعلق ’’ایپی بیٹاڈین‘‘ نامی انتہائی زہریلے مادے سے بھی سامنے آیا، جو ایک مخصوص مینڈک سے حاصل کیا جاتا ہے۔ اس مادے کے ممکنہ استعمال کے بارے میں مختلف دعوے سامنے آ چکے ہیں۔
روس مسلسل ان الزامات کی تردید کرتا ہے۔ ماسکو کا کہنا ہے کہ اس کی حیاتیاتی تحقیق کا مقصد بیماریوں کا مقابلہ کرنا اور ممکنہ حیاتیاتی حملوں سے لوگوں کو محفوظ رکھنا ہے، نہ کہ حیاتیاتی ہتھیار بنانا۔
لیکن ایک دور افتادہ جزیرے پر عام لوگوں سے چھپی جدید لیبارٹری، خطرناک وائرسوں کا ماہر فوجی پس منظر رکھنے والا سربراہ، روسی فوج کے حساس تحقیقی ادارے سے تعلق، ہیلی کاپٹر کے لیے خصوصی جگہ اور اسی دوران دوسرے فوجی تحقیقی مراکز کی توسیع نے ایک بڑا سوال ضرور پیدا کر دیا ہے۔
کیا روس واقعی صرف بیماریوں سے بچاؤ کے لیے تحقیق کر رہا ہے، یا ’’ریسرچ‘‘ کے پردے میں اپنی حیاتیاتی جنگی طاقت بھی تیار کر رہا ہے؟



