منشیات کی ملکہ یا بااثر حلقوں کی منظورِ نظر؟ بی بی دیاں گلاں پنک پنک

تحریر:گوہر بٹ

​پاکستان کی سیاست اور معاشرت میں "پنکی” کا نام بھی کیا خوب جادوئی اثر رکھتا ہے۔ ایک وہ پنکی پیرنی صاحبہ تھیں جن کی "پھونکوں” نے خان صاحب کو تختِ اقتدار تک پہنچایا اور پھر اسی تخت سے اٹھا کر اڈیالہ کے سیل نمبر 4 تک پہنچا دیا۔ اور اب ایک یہ نئی "انمول عرف پنکی” منظرِ عام پر آئی ہے، جس نے کراچی سے لاہور تک کی اشرافیہ کو اپنی زلفوں اور "سفید پاؤڈر” کا اسیر بنا رکھا ہے۔ صاحب! کمال ہے اس ملک کا، یہاں قانون کی گرفت غریب کے گلے تک تو پہنچتی ہے، لیکن جب بات کسی "پنکی” کی آ جائے تو ہتھکڑیاں بھی شرما جاتی ہیں اور وردی پوش پروٹوکول افسر بن جاتے ہیں۔

​آج کل سوشل میڈیا پر اس پنکی کی ایک ویڈیو وائرل ہے، جسے دیکھ کر گمان ہوتا ہے کہ یہ کوئی مجرمہ نہیں بلکہ کسی فیشن شو کی ریمپ واک کر رہی ہے۔ کیٹ واک ملاحظہ کیجیے، چہرے پر نہ کوئی پچھتاوا، نہ کوئی خوف۔ پیچھے پیچھے پولیس اہلکار یوں راہ دکھا رہے ہیں جیسے میڈم تاج محل کی سیر کو نکلی ہوں۔ اسے کہتے ہیں "سکون ڈاٹ کام”۔ اسے پتا ہے کہ اس نے جن "وڈے لوگوں” کی رگوں میں کوکین دوڑائی ہے، وہ اسے کبھی تنہا نہیں چھوڑیں گے۔

​ذرائع بتاتے ہیں کہ یہ بی بی صرف منشیات فروش نہیں بلکہ کوکین بنانے کی ماہر یعنی "سائنسدان” ہے۔ 14، 15 سال کی عمر میں اس کام کا آغاز کیا اور دیکھتے ہی دیکھتے کوکین اور آئس کی دنیا میں اپنا ایک برانڈ بنا لیا۔ لاہور کے نواب ٹاؤن میں جب چھاپہ پڑا تو کروڑوں کی منشیات برامد ہوئی، لیکن بی بی کی پہنچ دیکھیے کہ گرفتاری لاہور میں ہوئی اور خبر کراچی سے نکلی۔ سنا ہے کہ اس بی بی کے شوہر نامدار رانا اکرم صاحب بھی پولیس میں انسپکٹر رہ چکے ہیں۔ اب یہ محض اتفاق ہے یا کوئی "خاص انتظام” کہ پولیس افسر کی اہلیہ ہی کوکین کی سپلائی لائن کی انچارج نکلتی ہے؟

​مزے کی بات یہ ہے کہ اس کا نیٹ ورک صرف گلی محلوں تک محدود نہیں، بلکہ ڈی ایچ اے کی رنگین پارٹیوں سے لے کر بڑے بڑے ایلیٹ کالجز اور یونیورسٹیوں تک پھیلا ہوا ہے۔ اشرافیہ کے بچوں کو تباہ کرنے والی یہ ملکہ آج بھی اتنی بااثر ہے کہ کچہری میں جج صاحب کے سامنے اسے ریمانڈ کے بجائے جوڈیشل کر دیا جاتا ہے۔ وجہ؟ پولیس نے مقدمے میں ایسی ایسی خامیاں چھوڑیں کہ جج صاحب بھی مجبور ہو گئے۔ جس بلڈنگ کا پتہ لکھا گیا، وہاں کے مکین دہائیاں دے رہے ہیں کہ "خدا کا نام لو، ہم تو شریف لوگ ہیں، یہاں پنکی کا کوئی نام و نشان نہیں۔” یہ ہے وہ "فالس فلیگ” آپریشن جو بااثر لوگوں کو بچانے کے لیے کیا جاتا ہے۔

​پاکستان میں "پنکی” برانڈ کی مقبولیت کا یہ عالم ہے کہ ایک طرف وہ "پیرنی” صاحبہ ہیں جن کے فیض سے ملک کے کئی سی ایس پی افسران اپنی پوسٹنگز کرواتے تھے، اور دوسری طرف یہ "ڈرگ کوئین” پنکی ہے جس کے چرچے سن کر بڑے بڑے "شریف” لوگوں کے ماتھے پر پسینہ آ گیا ہے۔ سنا ہے کہ ایک بار اسے بچانے کے لیے کسی بڑے افسر کو سات کروڑ روپے کی "نذرانہ” بھی پیش کیا گیا تھا۔ اب سچ کیا ہے، یہ تو اللہ ہی بہتر جانتا ہے، لیکن یہ بات طے ہے کہ اس انڈر ورلڈ کے اکٹوپس نے پوری سوسائٹی کو جکڑ رکھا ہے۔

​خان صاحب اکثر کہتے تھے کہ "قانون سب کے لیے برابر ہے”، لیکن ان کے دور میں بھی پنکی پیرنی کا حکم چلتا تھا اور اج کے اس "نظام” میں بھی انمول پنکی کا نخرہ چل رہا ہے۔ غریب کا بچہ اگر ایک بوتل دیسی شراب کے ساتھ پکڑا جائے تو پولیس اسے الٹا لٹکا دیتی ہے، لیکن یہاں کروڑوں کی کوکین برامد ہونے کے باوجود بی بی "پنک پنک” باتیں کر رہی ہے اور آڈیو پیغامات میں چیلنج دے رہی ہے کہ "جاؤ، تم میرا کچھ نہیں بگاڑ سکتے”۔

​حقیقت تو یہ ہے کہ جب تک ریاست ان "پنکیوں” کے پیچھے بیٹھے بااثر چہروں کو بے نقاب نہیں کرے گی، تب تک یہ ملک یونہی "نشے” کی حالت میں ہچکولے کھاتا رہے گا۔ ایک پنکی نے سیاست تباہ کی، دوسری نسلیں تباہ کر رہی ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ قانون اس ملکہ کے سامنے گھٹنے ٹیکتا ہے یا اسے کیفرِ کردار تک پہنچاتا ہے۔ فی الحال تو اس انمول بی بی دیاں گلاں سن کے سب کے منہ اور کان” پنک پنک” ہی ہو رہے ہیں۔

مزید خبریں

Back to top button