پی آئی اے میں50لاکھ روپے سے زائد کے سیٹ فراڈکاانکشاف

لاہور(جانو ڈاٹ پی کے)پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) میں پرکشش سیٹوں کو سسٹم میں نارمل سیٹیں ظاہر کرکے مسافروں سے وصول کی گئی رقم میں مبینہ طور پر 50 لاکھ 60 ہزار 269 روپے سے زائد کے فراڈ کا انکشاف ہوا ہے۔ ایکسپریس نیوز کو موصول ہونے والی دستاویزات کے مطابق اس معاملے میں تقریباً 20 افسران اور ملازمین کے نام سامنے آئے ہیں، جن میں تین خواتین بھی شامل ہیں۔ مبینہ طور پر یہ عمل پوسٹ فلائٹ شعبے کے بعض افسران اور ملازمین کی ملی بھگت سے کیا گیا۔
دستاویزات کے مطابق لاہور کے علامہ اقبال انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے اندرون اور بیرون ملک جانے والی مختلف پروازوں میں مسافروں سے پرکشش اور بڑی نشستوں کی اضافی رقم وصول کی جاتی رہی، تاہم پرواز کی روانگی اور بورڈنگ کے بعد سسٹم میں ان نشستوں کو نارمل سیٹیں ظاہر کیا جاتا تھا۔ اس طرح وصول کی گئی رقم کا مکمل اندراج نہ ہونے کا معاملہ سامنے آیا، جسے پی آئی اے کی آڈٹ اینڈ فنانس کمیٹی نے پکڑ لیا۔
رپورٹ کے مطابق پوسٹ فلائٹ شعبے کی ذمہ داری آنے اور جانے والی پروازوں کی مکمل رپورٹ تیار کرنا ہے، تاہم اس معاملے میں متعلقہ شعبے کے بعض افسران اور ملازمین کی مبینہ غفلت یا ملی بھگت بھی سامنے آئی ہے۔
ذرائع کے مطابق فنانس کمیٹی کی جانب سے معاملے کی نشاندہی کے بعد پی آئی اے لاہور اسٹیشن کے منیجر اشفاق حسین اعوان کو متعلقہ ملازمین کے خلاف کارروائی کی ہدایت کی گئی۔ اس کے بعد بعض ملازمین کی تنخواہوں سے مختلف رقوم کی کٹوتی کا حکم دیا گیا۔
دستیاب تفصیلات کے مطابق صفدر گوندل کی تنخواہ سے 34 ہزار 750 روپے، ماجد امیر سے 97 ہزار 410 روپے، صوبیہ ناز سے ایک لاکھ 72 ہزار 360 روپے، شہزاد محمود سے 47 ہزار 260 روپے، کرن شہزادی سے 33 ہزار 360 روپے اور ماجد امیر علی سے ایک لاکھ 26 ہزار 639 روپے کی کٹوتی کی گئی۔
اسی طرح فیضلہ عامر سے 2 ہزار 800 روپے، عمیر انصاری سے 41 ہزار 700 روپے، کامران ظفر سے 20 ہزار 850 روپے، شہزاد بھٹی سے 30 ہزار روپے اور عامر زمان سے 6 ہزار 950 روپے کاٹے گئے۔
ذرائع نے الزام عائد کیا ہے کہ معاملے میں ملوث قرار دیے جانے والے ملازمین کے خلاف مزید محکمانہ کارروائی نہیں کی گئی اور وہ بدستور انہی عہدوں پر کام کر رہے ہیں۔ ذرائع کے مطابق پی آئی اے کے قواعد کے تحت مزید کارروائی ہونا تھی، تاہم بعض اعلیٰ افسران کی مبینہ مداخلت کے باعث کارروائی آگے نہ بڑھ سکی۔
رپورٹ کے مطابق یہ معاملہ صرف لاہور ایئرپورٹ تک محدود نہیں بلکہ اسلام آباد اور کراچی ایئرپورٹس پر بھی اس نوعیت کے واقعات سامنے آنے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق پی آئی اے کے ترجمان سے مؤقف لینے کے لیے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے بتایا کہ معاملہ متعلقہ افسر کو بھجوا دیا گیا ہے اور جواب موصول ہونے پر آگاہ کیا جائے گا۔



