یمن میں خونریزمیزائل حملہ،50سے زائد افراد ہلاک،100سے زیادہ زخمی،حوثیوں نے فوجی تربیتی کیمپ پر3بیلسٹک میزائل داغ دیے

شبوا (جانو ڈاٹ پی کے)یمن کے صوبے شبوا میں حوثی جنگجوؤں کے تین بیلسٹک میزائل حملوں میں 50 سے زائد افراد ہلاک اور 100 سے زیادہ زخمی ہوگئے۔ حملے میں بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ یمنی حکومت کی حمایت کرنے والی فورسز کے العلم فوجی کیمپ کو نشانہ بنایا گیا، جہاں پولیس اور سیکیورٹی اہلکاروں کی بڑی تعداد موجود تھی۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق یمنی فوج کے ترجمان ماجد النزیلی نے تصدیق کی کہ حوثیوں نے شبوا کے مرکزی تربیتی کیمپ پر تین بیلسٹک میزائل داغے۔ حملے کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر جانی نقصان ہوا اور متعدد افراد شدید زخمی ہوگئے۔

ابتدائی اطلاعات میں 30 سے زائد ہلاکتوں اور 70 زخمیوں کی اطلاع دی گئی تھی، تاہم بعد ازاں حکام نے ہلاکتوں کی تعداد کم از کم 50 اور زخمیوں کی تعداد 100 سے زیادہ بتائی۔ بعض دیگر ذرائع نے اس سے بھی زیادہ جانی نقصان کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔

صوبائی حکام کے مطابق زخمیوں کی بڑی تعداد کے باعث مقامی اسپتالوں پر دباؤ بڑھ گیا، جبکہ شدید زخمیوں کو بہتر طبی سہولتوں کے لیے دوسرے صوبوں کے اسپتالوں میں منتقل کرنا پڑا۔

یمنی فوج کے ایک ذریعے نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ شبوا میں یہ حملہ حوثیوں کی ممکنہ زمینی کارروائی کا پیش خیمہ ہوسکتا ہے۔ فوجی ذریعے نے ماضی میں بحیرہ احمر کے ساحل پر واقع اہم بندرگاہی شہر المخا میں پیش آنے والی صورت حال کا حوالہ بھی دیا۔فوجی ذریعے کے مطابق حوثیوں نے اتوار کو شبوا کو اپنے زیرِ کنٹرول صوبے البیضا سے ملانے والی سڑک بھی بند کردی تھی، جس کے باعث مقامی آبادی کی آمدورفت متاثر ہوئی۔یمن میں حوثیوں اور حکومت کی حمایت یافتہ فورسز کے درمیان لڑائی 2022 میں قائم ہونے والی جنگ بندی کے خاتمے کے بعد دوبارہ شدت اختیار کرگئی ہے۔ تازہ حملے کے بعد ملک میں سیکیورٹی صورت حال مزید خراب ہونے کے خدشات پیدا ہوگئے ہیں۔یمن میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے اثرات بحیرہ احمر اور باب المندب کے قریب علاقائی سلامتی کے لیے بھی تشویش کا باعث بن رہے ہیں، کیونکہ یہ خطہ عالمی بحری تجارت اور جہاز رانی کے لیے غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔

مزید خبریں

Back to top button