برج الخلیفہ اور برج العرب بند،شدید معاشی بحران نے دبئی میں مقیم پاکستانیوں کا مستقبل داؤ پر لگا دیا
مذاکرات میں ایک عارضی تعطل یا "ٹی بریک" نظر آ رہا ہے،مبشر لقمان،گوہر بٹ

اسلام آباد(خصوصی رپورٹ/جانوڈاٹ پی کے)اسلام آباد میں پاک امریکہ اور ایران کے مابین ہونے والے مذاکرات کے حوالے سے اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، اس حوالے سے خصوصی بات چیت میں مبشر لقمان اور گوہر بٹ جیسے سینئر تجزیہ کاروں کا دعویٰ ہے کہ اگرچہ اس وقت مذاکرات میں ایک عارضی تعطل یا "ٹی بریک” نظر آ رہا ہے، لیکن پس پردہ معاملات حل کی جانب گامزن ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، 86 فیصد امکان ہے کہ سیز فائر کے بعد جنگ دوبارہ شروع نہیں ہوگی، تاہم امریکہ اور ایران دونوں اس کوشش میں ہیں کہ مذاکراتی میز سے اس طرح اٹھیں کہ ان کی داخلی "فتح” کی ساکھ متاثر نہ ہو۔ اس سارے منظر نامے میں جہاں پاکستان مصالحتی کردار ادا کر رہا ہے، وہیں ڈونلڈ ٹرمپ پر الزامات لگائے جا رہے ہیں کہ وہ اپنی کاروباری سلطنت اور سٹاک ایکسچینج کے مفادات کے لیے اس تناؤ سے اربوں ڈالر کما رہے ہیں۔
عالمی معاشی محاذ پر دبئی سے متعلق تشویشناک خبریں موصول ہو رہی ہیں، جہاں جنگی حالات اور ڈالر کی بڑھتی ہوئی طلب کی وجہ سے بینکنگ سیکٹر شدید دباؤ کا شکار ہے۔
اطلاعات کے مطابق برج العرب اور برج الخلیفہ جیسے بڑے ہوٹلزاورمالز نے "رینوویشن” کے نام پر18ماہ کیلئے بندش کا اعلان کر دیا ہے،جس سے یومیہ500ملین ڈالر کے ٹورزم ریونیو کا نقصان ہو رہا ہے۔اس صورتحال نے وہاں مقیم لاکھوں پاکستانیوں کے مستقبل پر سوالیہ نشان لگا دیے ہیں۔
سینئر صحافی نعیم حنیف،مبشر لقمان اورگوہر بٹ کا پروگرام دیکھنے کیلئے نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں




