فرانس میں مہنگائی کے خلاف ملک گیر احتجاج پرتشدد، پیرس اور مارسیے میں جھڑپیں، لوٹ مار

پیرس(مانیٹرنگ ڈیسک) فرانس میں بڑھتی ہوئی مہنگائی اور معاشی عدم مساوات کے خلاف ملک گیر احتجاجی مظاہروں کے دوران پیرس اور مارسیے سمیت متعدد شہروں میں مظاہرین اور سکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپیں شروع ہو گئیں، جبکہ حالات پر قابو پانے کے لیے 70 ہزار پولیس اہلکار اور سکیورٹی فورسز تعینات کر دی گئیں۔

فرانسیسی وزارت داخلہ نے بتایا کہ ملک بھر میں ہونے والے مظاہروں میں تقریباً 4 لاکھ 10 ہزار افراد نے شرکت کی، تاہم مزدور تنظیموں نے دعویٰ کیا کہ مظاہرین کی تعداد سرکاری اعداد و شمار سے دگنی تھی۔

پیرس کے جنوب مشرقی علاقے میں ہونے والے مرکزی مظاہرے میں کم از کم ایک لاکھ 10 ہزار افراد شریک ہوئے۔ مظاہرہ ختم ہونے کے بعد صورتِ حال کشیدہ ہو گئی اور نقاب پوش نوجوانوں کے ایک گروہ کو منتشر کرنے کے لیے پولیس نے آنسو گیس اور واٹر کینن کا استعمال کیا۔

مارسیے میں مظاہرین نے سڑکیں بند کر دیں، کچرے کے ڈبوں کو آگ لگا دی اور سکیورٹی فورسز پر پتھراؤ کیا۔ پولیس کے مطابق شہر میں متعدد دکانوں کو لوٹ لیا گیا، جن میں زیورات کی دو دکانیں بھی شامل تھیں۔ فرانس کے دیگر شہروں میں بھی احتجاج کے دوران جھڑپوں اور بدامنی کے واقعات پیش آئے۔

فرانسیسی وزیر داخلہ لوراں نونیز نے الزام عائد کیا کہ انتہا پسند بائیں بازو کے کارکن اور جرائم پیشہ گروہ احتجاجی مظاہروں کو پُرتشدد بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

فرانس میں مہنگائی اور معاشی عدم مساوات کے خلاف بڑھتے ہوئے احتجاج نے حکومت کے لیے امن و امان برقرار رکھنے کا چیلنج مزید بڑھا دیا ہے، جبکہ حکام نے بدامنی اور لوٹ مار کی روک تھام کے لیے سکیورٹی انتظامات سخت کر دیے ہیں۔

مزید خبریں

Back to top button