اسرائیل کے مقبوضہ علاقے ایک گھنٹے میں ناقابل رہائش بن جائیں گے، ایران کا سخت انتباہ

تہران(ویب ڈیسک) ایران نے اسرائیل کو خبردار کیا ہے کہ ایران کے خلاف کسی بھی جارحانہ اقدام یا غلط اندازے کی صورت میں اسرائیل کے مقبوضہ علاقوں کو ایک گھنٹے سے بھی کم وقت میں ناقابلِ رہائش بنایا جا سکتا ہے۔
ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کمیٹی کے چیئرمین ابراہیم عزیزی نے سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں اسرائیل کو سخت انتباہ جاری کیا۔ انہوں نے اپنے پیغام کے ساتھ اسرائیل کے زیرِ قبضہ علاقوں میں واقع اہم تنصیبات کا تفصیلی نقشہ بھی شیئر کیا۔
نقشے میں پانی صاف کرنے کے بڑے پلانٹس، بجلی گھر، تیل صاف کرنے کے کارخانے، اہم پل، گزرگاہیں، دیمونا جوہری تنصیب اور توانائی کی اہم راہداریوں کی نشاندہی کی گئی ہے۔
ابراہیم عزیزی کے مطابق ان اہم تنصیبات کا ایک دوسرے کے قریب واقع ہونا اسرائیل کے بنیادی ڈھانچے کی کمزوری کو ظاہر کرتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کے خلاف کسی بھی جارحیت کے سنگین نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔
ایرانی قانون ساز کی یہ دھمکی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف سخت بیانات اور ممکنہ فوجی کارروائی کے خدشات کے باعث مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی بڑھ رہی ہے۔
ایرانی حکام اس سے قبل بھی متعدد مرتبہ واضح کر چکے ہیں کہ ایران پر حملے کی صورت میں بھرپور اور متعدد محاذوں پر جوابی کارروائی کی جائے گی۔ تہران نے یہ مؤقف بھی اختیار کیا ہے کہ حملہ آوروں اور ان کے حامیوں کے مفادات کو نشانہ بنانے میں کوئی رعایت نہیں برتی جائے گی۔
خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں ایرانی قیادت کے اس تازہ بیان کو اسرائیل کے خلاف سخت انتباہ قرار دیا جا رہا ہے، تاہم مقبوضہ علاقوں کو ایک گھنٹے سے کم وقت میں ناقابلِ رہائش بنانے کا دعویٰ ابراہیم عزیزی کا بیان ہے، اس کی آزادانہ تصدیق سامنے نہیں آئی۔



