27ستمبر کا احتجاج،اپوزیشن نے کمر کس لی، تمام جماعتوں سے رابطوں کا فیصلہ

اسلام آباد (جانو ڈاٹ پی کے) 27 ستمبر کے احتجاج سے قبل ملکی سیاست میں ہلچل مزید تیز ہوگئی، اپوزیشن جماعتوں نے احتجاج کو بھرپور بنانے، تمام سیاسی قوتوں کو ایک پلیٹ فارم پر لانے اور جلد آل پارٹیز کانفرنس بلانے کا فیصلہ کرلیا۔
محمود خان اچکزئی کی زیرصدارت اپوزیشن رہنماؤں کا اہم اجلاس سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر علامہ راجا ناصر عباس کے چیمبر میں ہوا، جس میں چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر خان، بیرسٹر سلمان اکرم راجا، سابق اسپیکر اسد قیصر اور دیگر رہنماؤں نے شرکت کی۔
اجلاس میں 27 ستمبر کے احتجاج کی تیاریوں، سیاسی رابطوں اور آئندہ کے مشترکہ لائحہ عمل پر تفصیلی مشاورت کی گئی۔ ذرائع کے مطابق محمود خان اچکزئی اور علامہ راجا ناصر عباس نے تحریک انصاف کو احتجاج کے لیے بھرپور تیاری کرنے کی ہدایت کی۔
اپوزیشن جماعتوں نے موجودہ ملکی حالات کے پیش نظر دیگر سیاسی جماعتوں سے بھی رابطے تیز کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جبکہ جلد آل پارٹیز کانفرنس بلانے پر بھی اتفاق کیا گیا۔ کانفرنس میں ملک کو درپیش سیاسی اور دیگر اہم مسائل پر غور اور اجتماعی لائحہ عمل مرتب کرنے کی کوشش کی جائے گی۔
دوسری جانب تحریک تحفظ آئین پاکستان کا اہم اجلاس 15 ستمبر کو طلب کرلیا گیا ہے، جس میں آل پارٹیز کانفرنس کی تیاریوں اور 27 ستمبر کے احتجاج کے حوالے سے حکمت عملی کا جائزہ لیا جائے گا۔
ادھر وزیراعظم کے خط کے بعد وزیراعظم اور اپوزیشن لیڈر کے دفاتر کے درمیان رابطے بھی شروع ہوگئے ہیں۔ ذرائع کے مطابق وزیراعظم اور اپوزیشن لیڈر کے درمیان ملاقات طے کرنے کے لیے مشاورت جاری ہے، جس سے ملکی سیاسی صورتحال میں نئی پیش رفت کے امکانات پیدا ہوگئے ہیں۔
اسی سلسلے میں بیرسٹر گوہر خان نے محمود خان اچکزئی سے ملاقات کی، جس میں علامہ راجا ناصر عباس بھی شریک ہوئے۔ ملاقات میں ملک کی مجموعی سیاسی صورتحال، اپوزیشن اتحاد اور 27 ستمبر کے احتجاج سمیت آئندہ کی سیاسی حکمت عملی پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
ذرائع کے مطابق تحریک انصاف کا وفد آج سہ پہر 3 بجے جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان سے ملاقات کے لیے ان کی رہائش گاہ پہنچے گا۔ ملاقات میں 27 ستمبر کے احتجاج اور اپوزیشن جماعتوں کے درمیان رابطوں سمیت اہم سیاسی معاملات پر گفتگو متوقع ہے۔
یوں 27 ستمبر کے احتجاج سے قبل اپوزیشن جماعتوں کی سرگرمیاں تیز ہوگئی ہیں اور سیاسی رابطوں کا دائرہ وسیع کیا جا رہا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ اپوزیشن جماعتیں احتجاج سے پہلے کس حد تک ایک مشترکہ حکمت عملی پر متفق ہوتی ہیں اور آل پارٹیز کانفرنس ملکی سیاست کا رخ کس جانب موڑتی ہے۔



