تیل کی قیمتیں مسلسل نیچے، جنگی خدشات کم ہوتے ہی عالمی منڈی کو بڑا ریلیف

نیو یارک(ویب ڈیسک) عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں جمعرات کو بھی کمی کا رجحان برقرار رہا، جس کے بعد قیمتیں مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی سے قبل کی سطح کے قریب پہنچ گئی ہیں۔ ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز میں بحری نقل و حرکت کی بحالی اور امریکہ، ایران و اسرائیل کے درمیان جنگ بندی سے متعلق ابتدائی مفاہمت نے سپلائی کے خدشات میں نمایاں کمی پیدا کی ہے۔

برینٹ کروڈ آئل کے ماہانہ فیوچرز 1.22 ڈالر یا 1.65 فیصد کمی کے بعد 72.52 ڈالر فی بیرل پر آ گئے، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) خام تیل 1.02 ڈالر یا 1.45 فیصد کمی کے ساتھ 69.32 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ کرتا رہا۔ اماراتی مربن آئل کی قیمت بھی کم ہو کر 66.45 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی۔

مارکیٹ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ برینٹ کے قریبی معاہدوں کی قیمتوں میں کمی اس بات کا اشارہ ہے کہ مختصر مدت میں تیل کی فراہمی وافر مقدار میں موجود ہے۔ مالیاتی ادارے آئی جی (IG) کے تجزیہ کار ٹونی سائکامور کے مطابق مشرقِ وسطیٰ سے تیل کی سپلائی کی تیز رفتار بحالی نے سرمایہ کاروں کو حیران کر دیا ہے اور مارکیٹ توقع سے زیادہ تیزی سے معمولات کی واپسی کو قیمتوں میں شامل کر رہی ہے۔

بدھ کے روز بھی برینٹ اور ڈبلیو ٹی آئی خام تیل کی قیمتوں میں تقریباً 3 ڈالر فی بیرل کمی ریکارڈ کی گئی تھی۔

امریکی وزیر توانائی کرس رائٹ کے مطابق آبنائے ہرمز سے تیل کی ترسیل تقریباً جنگ سے پہلے کی سطح پر واپس آ چکی ہے اور گزشتہ 24 گھنٹوں میں 2 کروڑ بیرل سے زائد خام تیل اس اہم آبی گزرگاہ سے منتقل کیا گیا۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ مکمل معمولات کی بحالی میں چند ہفتے لگ سکتے ہیں کیونکہ بعض بحری راستوں کو بارودی سرنگوں سے پاک کرنا باقی ہے۔

دوسری جانب عمان کی جانب سے آئل ٹینکروں کے لیے عارضی بحری راستے کھولنے اور بین الاقوامی بحری اداروں کی جانب سے نقل و حرکت کو مربوط بنانے کی کوششوں نے بھی عالمی منڈی میں اعتماد بحال کیا ہے۔

ادھر امریکی انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن (EIA) کے مطابق امریکہ میں خام تیل کے ذخائر 1984 کے بعد کم ترین سطح پر آ گئے ہیں، تاہم سرمایہ کاروں کی توجہ آبنائے ہرمز کی صورتحال پر مرکوز رہنے کے باعث اس خبر کا قیمتوں پر خاطر خواہ اثر نہیں پڑا۔

مزید خبریں

Back to top button