منگلا ڈیم متاثرین کیس: لاہور ہائیکورٹ کا بڑا فیصلہ، بے دخلی سے روک دیا

لاہور(جانوڈاٹ پی کے) لاہور ہائیکورٹ نے منگلا ڈیم متاثرین سے متعلق اہم کیس میں بڑا فیصلہ سناتے ہوئے بورڈ آف ریونیو کا حکم کالعدم قرار دے دیا اور معاملے پر چار ماہ کے اندر دوبارہ فیصلہ کرنے کا حکم جاری کر دیا۔

جسٹس مزمل اختر شبیر کی جانب سے جاری 4 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلے میں کہا گیا ہے کہ حتمی فیصلہ ہونے تک درخواست گزاروں کو ان کی زیرِ ملکیت زمین سے بے دخل نہیں کیا جائے گا۔

فیصلے کے مطابق درخواست گزاروں کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ وہ منگلا ڈیم سے متاثرہ افراد ہیں اور واپڈا نے سرکاری زمین کی خریداری کا سرٹیفکیٹ جاری کرتے ہوئے زمین کی مکمل قیمت وصول کر لی تھی۔

عدالت کو بتایا گیا کہ درخواست گزاروں نے ملکیت کی منتقلی کے لیے ڈسٹرکٹ کلکٹر وہاڑی سے رجوع کیا، تاہم ان کی درخواست مسترد کر دی گئی۔ بعد ازاں ہائیکورٹ نے 1999 میں یہ معاملہ دوبارہ بورڈ آف ریونیو کو بھجوا دیا تھا۔

تحریری فیصلے میں کہا گیا کہ بورڈ آف ریونیو نے دو اہم نکات کو نظر انداز کیا۔ پہلا یہ کہ 59 متاثرین کو پہلے ہی ملکیتی حقوق دیے جا چکے تھے، جبکہ دوسرا یہ کہ گورنر مغربی پاکستان نے ممنوعہ زون میں زمین کی الاٹمنٹ پر عائد پابندی میں نرمی کر دی تھی۔

عدالت نے قرار دیا کہ بورڈ آف ریونیو کے 2017 کے فیصلے میں ان دونوں نکات پر کوئی مؤثر غور نہیں کیا گیا، جس کے باعث اس حکم کو برقرار نہیں رکھا جا سکتا۔

سرکاری وکیل نے مؤقف اپنایا تھا کہ زمین ممنوعہ زون میں واقع ہونے کے باعث درخواست گزار ملکیتی حقوق کے مستحق نہیں، جبکہ متبادل زمین کی پیشکش بھی کی گئی تھی جسے درخواست گزاروں نے قبول نہیں کیا۔

تاہم عدالت نے بورڈ آف ریونیو کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے معاملہ دوبارہ سماعت کے لیے واپس بھجوا دیا اور ہدایت کی کہ چار ماہ میں قانون کے مطابق نیا فیصلہ کیا جائے۔ اس دوران متاثرین کو زمین سے بے دخل نہیں کیا جائے گا۔

مزید خبریں

Back to top button