فریڈم 250:”ہم کوئی غلام ہیں”ٹرمپ کیساتھ جشن پرفنکاروں کی وائٹ ہاؤس کو وڈی جئی’’ناں‘‘

تحریر:نہال معظم
ڈونلڈ ٹرمپ جس مٹی کو ہاتھ لگاتے ہیں وہ سونا بنے نہ بنے، راکھ ضرور بن جاتی ہے۔ اس بار امریکی صدر کا ہاتھ لگا ہے امریکا کے اپنے جشنِ یومِ آزادی کو۔ یہ جشن اس لیے خاص ہے کہ امریکا کی آزادی کے پورے ڈھائی سو سال مکمل ہو رہے ہیں، اور وائٹ ہاؤس نے سوچا کیوں نہ اس تاریخی سنگِ میل کو ایک شاندار مِوزک فیسٹیول کا تڑکا لگا کر سلیبریٹ کیا جائے۔ نام رکھا گیا "فریڈم 250” اور دعویٰ یہ کیا گیا کہ یہ بالکل معصوم، غیر سیاسی اور حب الوطنی سے لبریز تقریب ہے۔ لیکن جناب، جیسے ہی اس تقریب پر ٹرمپ برانڈ کا ٹھپا لگا، نامور فنکاروں نے وہ یو-ٹرن لیا کہ واشنگٹن کے نیشنل مال پر کھڑی رونقیں منہ دیکھتی رہ گئیں۔ جب راک اسٹار بریٹ مائیکلز، کنٹری میوزک کی کوئین مارٹینا میک برائیڈ اور لیجنڈری بینڈ "دی کموڈورز” نے اس اسٹیج پر پاؤں رکھنے سے صاف انکار کر دیا، تو انتظامیہ کے غبارے سے ساری ہوا نکل گئی۔ یہ محض ایک مِوزک شو کا فلاپ ہونا نہیں تھا، بلکہ اس کڑوی حقیقت کا اعتراف تھا کہ ٹرمپ کے امریکا میں اب ڈھائی سویں سالگرہ کا گیت بھی سیاسی تعصب کی پچ پر گایا جائے گا۔
اگر امریکی تاریخ کے پچھلے پنے پلٹیں تو معلوم ہوتا ہے کہ وائٹ ہاؤس کا لاؤنج اور فنکار برادری ہمیشہ ایک دوسرے کے سر میں سر ملاتے آئے ہیں۔ جارج واشنگٹن، ابراہم لنکن اور فرینکلن ڈی روزویلٹ جیسے دانا صدور نے جب بھی قوم کو پکارا، فنکاروں نے گٹار اٹھائے اور بغیر کسی ہچکچاہٹ کے گیت گانے پہنچ گئے۔ دوسری طرف رچرڈ نکسن اور اینڈریو جانسن جیسے ناپسندیدہ صدور بھی گزرے ہیں، جن کے ادوار میں وائٹ ہاؤس میں ایسی ویرانی چھائی کہ چڑیاں بھی پر مارنے سے ڈرتی تھیں۔ مگر ٹرمپ صاحب کا معاملہ ان سب سے دو ہاتھ آگے ہے۔ وہ بیک وقت مقبولیت کے آسمان پر بھی ہیں اور ناپسندیدگی کی گہرائیوں میں بھی۔ ان کا پولرائزنگ (تقسیم در تقسیم) جادو اس حد تک چل چکا ہے کہ اب اگر وہ ملک کی ڈھائی سویں سالگرہ بھی منائیں، تو آدھا امریکا اسے جشن سمجھتا ہے اور آدھا امریکا اسے ٹرمپ کا "پاپولسٹ شو” قرار دے کر ٹی وی بند کر دیتا ہے۔
موسیقی اور سیاست کا رشتہ امریکا میں ہمیشہ سے بڑا رومانوی رہا ہے۔ ماضی میں جب بھی کوئی بڑی سماجی تبدیلی لانی ہوتی، نسلی امتیاز کا خاتمہ کرنا ہوتا یا ویتنام جنگ کے خلاف آواز اٹھانی ہوتی، تو فنکار اپنی دھنوں کو ہتھیار بنا کر میدان میں اتر آتے تھے۔ موسیقی کا اصل کام ہی یہ تھا کہ وہ بکھرے ہوئے لوگوں کو جوڑے اور ناانصافی کے خلاف ایک مدھر احتجاج بن جائے۔ لیکن ٹرمپ انتظامیہ کے دور میں موسیقی کے اس آفاقی کردار کو بھی وائٹ ہاؤس کے لان میں قید کرنے کی کوشش کی گئی۔ ایک خالصتاً ثقافتی تقریب کو اس طرح ڈیزائن کیا گیا جیسے یہ ڈھائی سو سال کا قومی جشن نہیں بلکہ صدر صاحب کی اپنی تشہیر کا کوئی فینسی شو ہو۔ جب سیاست فن کو اپنا کٹھ پتلی بنانا چاہے، تو خوددار فنکار اپنے ساز اٹھا کر وہاں سے رخصت ہو جانا ہی بہتر سمجھتے ہیں۔
فنکاروں کے اس اچانک بائیکاٹ کے پیچھے کوئی غلط فہمی نہیں، بلکہ ایک بہت ہی سیدھا نفع نقصان کا حساب کتاب تھا۔ کوئی بھی سمجھدار آرٹسٹ یہ اچھی طرح جانتا ہے کہ ٹرمپ کے چمکتے دمکتے اسٹیج پر مائیک سنبھالنے کا مطلب یہ نکالا جائے گا کہ انہوں نے ایک مخصوص سیاسی ایجنڈے پر اپنی مہر تصدیق ثبت کر دی ہے۔ اب بھلا کوئی اپنے لاکھوں مداحوں کو محض ایک فردِ واحد کی انا کی تسکین کے لیے کیوں ناراض کرے؟ ویسے بھی ٹرمپ صاحب کا وائٹ ہاؤس کے لان میں ایم ایم اے فائٹ (MMA Fight) کروانے کا ماضی کا ریکارڈ گواہ ہے کہ انہیں باوقار روایات کو اپنے مخصوص اور جارحانہ مزاج میں ڈھالنے کا کتنا شوق ہے۔ فنکاروں نے بروقت بھانپ لیا کہ حب الوطنی کا یہ میٹھا لبادہ دراصل ایک انتخابی ڈرامہ ہے، اس لیے انہوں نے اپنے فن کو کسی سیاسی مہم کا سستا اشتہار بننے سے بچا لیا۔
اب اگر مستقبل کے آئینے میں دیکھا جائے تو امریکی مقتدر حلقوں کو یہ کڑوی گولی نگلنی ہی ہوگی کہ اقتدار کا نشہ اپنی جگہ، لیکن ڈھائی سو سالہ تاریخ، قومی علامات اور پرچم کسی کی ذاتی جاگیر نہیں ہوتے۔ اگر ایسے بڑے ایونٹس کا بھرم رکھنا ہے، تو حکومت کو اپنی ہٹ دھرمی چھوڑ کر آرگنائزنگ کمیٹیوں میں اپوزیشن اور آزاد خیال دانشوروں کو بھی بٹھانا ہوگا تاکہ تقریب کی کچھ ساکھ تو بچے۔ سیدھی بات یہ ہے کہ فن اور ثقافت کو سیاست کی اس گندی جنگ سے دور رکھا جائے اور فنکاروں کو بغیر کسی بدنامی کے خوف کے پرفارم کرنے دیا جائے۔ اگر اب بھی امریکی مقتدر حلقوں نے اپنی یہ تفریق پسندانہ روش نہ بدلی، تو وہ دن دور نہیں جب امریکا کا ہر قومی دن حب الوطنی کا میلہ بننے کے بجائے، اندرونی نظریاتی جنگ کا ایک نیا اکھاڑا بن کر رہ جائے گا جہاں صرف ٹرمپ کے حامی اور مخالفین ایک دوسرے پر جملے کس رہے ہوں گے۔



