بھارت میں احتجاج سے قبل سکیورٹی سخت، 250 سے زائد ٹرینیں منسوخ، دہلی میٹرو کے 57 اسٹیشنوں کے راستے بند

نئی دہلی(ویب ڈیسک) بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں کاکروچ جنتا پارٹی کے احتجاج سے قبل سکیورٹی کے غیر معمولی انتظامات کیے گئے ہیں، جبکہ نئی دہلی اور حضرت نظام الدین ریلوے اسٹیشنوں سے آنے اور جانے والی 250 سے زائد ٹرینیں منسوخ کر دی گئی ہیں۔ دہلی میٹرو کے 57 اسٹیشنوں کے داخلی اور خارجی راستے بھی بند کر دیے گئے ہیں، جس سے شہریوں اور مسافروں کو مشکلات کا سامنا ہے۔

برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق ریلوے بورڈ کے فیصلے کے تحت 9 اکتوبر کو دوپہر 2 بجے کے بعد اپنے ابتدائی اسٹیشنوں سے روانہ ہونے والی مسافر ٹرینیں منسوخ کی گئیں، جبکہ 10 اکتوبر کو صبح 4 بجے سے دوپہر 2 بجے کے درمیان نئی دہلی یا حضرت نظام الدین ریلوے اسٹیشن پہنچنے والی ٹرینیں بھی منسوخ رہیں گی۔

احتجاج کے پیش نظر دارالحکومت کے مختلف علاقوں میں پولیس اور سکیورٹی اہلکاروں کی بڑی تعداد تعینات کی گئی ہے۔ مظاہرے کے مرکزی مقام جنتر منتر کی جانب جانے والی سڑکوں پر رکاوٹیں کھڑی کر دی گئی ہیں، جبکہ پولیس کا کہنا ہے کہ احتجاج کے لیے باضابطہ اجازت نہیں دی گئی۔

کاکروچ جنتا پارٹی کی جانب سے بلائے گئے احتجاج میں مظاہرین انتخابی اصلاحات اور چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ مظاہرین نے ووٹر فہرستوں میں مبینہ ردوبدل کے الزامات عائد کیے ہیں، تاہم الیکشن کمیشن ان الزامات کی تردید کر چکا ہے۔ چیف الیکشن کمشنر نے مستعفی ہونے کے مطالبے پر تاحال کوئی تبصرہ نہیں کیا۔

دوسری جانب ٹرینوں کی بڑے پیمانے پر منسوخی کے فیصلے پر بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ ریلوے کے سابق عہدیداروں، مسافروں کی تنظیموں اور ملازمین کی یونینوں نے اس اقدام پر تنقید کرتے ہوئے ہزاروں مسافروں کو پیش آنے والی ممکنہ مشکلات پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق احتجاج کے پیش نظر 20 ہزار سے زائد پولیس اور نیم فوجی اہلکار تعینات کیے گئے ہیں، موبائل انٹرنیٹ سروس معطل کرنے اور دفعہ 163 نافذ کرنے کی بھی اطلاعات ہیں۔ دارالحکومت میں سخت حفاظتی انتظامات کے باعث معمولاتِ زندگی اور آمدورفت متاثر ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

مزید خبریں

Back to top button