نیپال میں قیامت خیز سیلاب،راسووا میں تباہی کے مناظر نے دنیا کو ہلا دیا
سینکڑوں افراد لاپتا، ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ

کھٹمنڈو (خصوصی رپورٹ: جانو ڈاٹ پی کے) نیپال کے شمالی ضلع راسووا میں آنے والے اچانک اور انتہائی تباہ کن فلیش فلڈ نے ہر طرف تباہی مچا دی۔ سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی ویڈیوز اور تصاویر میں پانی کے خوفناک ریلے کو سڑکوں، پلوں، گھروں اور دیگر بنیادی ڈھانچے کو چند لمحوں میں بہاتے دیکھا جاسکتا ہے، جبکہ متاثرہ علاقوں کے مناظر کسی ڈیزاسٹر فلم کے منظر سے کم دکھائی نہیں دیتے۔
حکام کے مطابق بدھ کی صبح تقریباً 9 بجے بھوٹے کوشی دریا میں اچانک پانی کا انتہائی شدید ریلا آیا، جس نے راسووا کے تیمورے اور سیافرو بیسی سمیت سرحدی علاقوں کو بری طرح متاثر کیا۔ پانی کے ساتھ مٹی، چٹانیں اور ملبہ بھی نیچے آیا، جس سے کئی بستیاں، سڑکیں اور پل متاثر ہوئے۔
سینکڑوں افراد لاپتا، ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ
ابتدائی اطلاعات کے مطابق سیلاب اور اس سے پیدا ہونے والی تباہی میں کم از کم 8 سے 9 افراد جاں بحق ہوچکے ہیں جبکہ سینکڑوں افراد کے لاپتا ہونے کی اطلاعات ہیں۔ نیپال ٹورازم بورڈ کے ابتدائی اعداد و شمار میں 384 مسافروں کے لاپتا ہونے کا ذکر کیا گیا ہے، جن میں 291 غیر ملکی اور 93 نیپالی شہری شامل ہیں۔
لاپتا افراد میں مختلف ممالک کے سیاح بھی شامل ہیں، جس کے باعث اس سانحے نے بین الاقوامی تشویش پیدا کردی ہے۔ ریسکیو اداروں کو متاثرہ علاقوں تک پہنچنے میں شدید مشکلات کا سامنا ہے کیونکہ کئی راستے سیلابی ریلے اور ملبے کی وجہ سے بند ہوچکے ہیں۔
پل، سڑکیں اور بجلی کے منصوبے بھی تباہ
سیلابی پانی نے صرف رہائشی علاقوں کو ہی متاثر نہیں کیا بلکہ اہم انفراسٹرکچر بھی شدید نقصان کا شکار ہوا۔ رپورٹس کے مطابق متعدد سڑکیں اور پل بہہ گئے جبکہ ہائیڈرو پاور منصوبوں کو بھی نقصان پہنچا ہے۔ رائٹرز کے مطابق متاثرہ بجلی کے منصوبوں سے وابستہ تقریباً 430 میگاواٹ بجلی کی صلاحیت متاثر ہوئی، جو نیپال کی ہائیڈرو پاور صلاحیت کا ایک نمایاں حصہ ہے۔
چین سے ملحقہ سرحدی علاقے بھی اس قدرتی آفت سے متاثر ہوئے ہیں اور تبت کے گیئرونگ علاقے میں بھی مٹی کے تودے گرنے اور جانی نقصان کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔
سیلاب کی وجہ کیا بنی؟
ابتدائی ماہرین کی رائے کے مطابق یہ عام بارشوں کا سیلاب نہیں بلکہ ممکنہ طور پر برف، چٹان اور ملبے کے اچانک تودے کے نتیجے میں دریا کے راستے میں رکاوٹ پیدا ہونے اور پھر پانی کے اچانک ٹوٹ پڑنے سے پیدا ہوا۔ تاہم حتمی وجہ اور واقعے کی مکمل تفصیلات کا تعین ابھی جاری ہے۔
ماہرین کے مطابق ہمالیائی خطے میں تیزی سے بدلتے موسمی حالات، برفانی تودوں اور گلیشیئرز میں تبدیلیاں ایسے اچانک واقعات کے خطرے کو مزید پیچیدہ بنا رہی ہیں۔
ریسکیو آپریشن جاری، مزید سیلاب کا خدشہ
نیپالی فوج، پولیس اور دیگر امدادی اداروں نے متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیاں شروع کردی ہیں۔ ہیلی کاپٹرز کے ذریعے ریسکیو اور صورتحال کا جائزہ لینے کی کوشش کی جارہی ہے، تاہم شدید پانی، خراب موسم اور تباہ شدہ راستوں کے باعث امدادی سرگرمیوں کو مشکلات پیش آرہی ہیں۔
حکام نے دریاؤں کے کنارے آباد لوگوں کو فوری طور پر محفوظ اور بلند مقامات پر منتقل ہونے کی ہدایت کی ہے، جبکہ بعض علاقوں میں مزید سیلاب کے خطرے کے پیش نظر الرٹ جاری کردیا گیا ہے۔
ہمالیہ کے لیے بڑا سبق
راسوا کی تباہی نے ایک بار پھر یہ سوال اٹھا دیا ہے کہ ہمالیائی خطے میں فلیش فلڈ اور گلیشیئر سے متعلق قدرتی آفات کے لیے ابتدائی انتباہی نظام کس حد تک مؤثر ہیں۔
ایسے واقعات میں چند منٹ کی پیشگی اطلاع بھی سیکڑوں جانیں بچا سکتی ہے۔ ماہرین کے مطابق دریا کے بالائی علاقوں میں مسلسل نگرانی، سیٹلائٹ اور ریڈار ڈیٹا کا استعمال، خودکار سائرن، موبائل الرٹس اور سرحد پار ممالک کے درمیان فوری معلومات کا تبادلہ مزید مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔
راسوا میں آنے والے سیلاب کی ہولناک تصاویر اور ویڈیوز دنیا کو یہ پیغام دے رہی ہیں کہ ہمالیہ میں قدرتی آفات کا مقابلہ صرف امدادی کارروائیوں سے نہیں بلکہ مؤثر پیشگی وارننگ، بہتر منصوبہ بندی اور بروقت انخلا سے ہی ممکن ہے۔
اس المناک سانحے میں جاں بحق ہونے والوں کے لواحقین اور متاثرہ خاندانوں کے ساتھ دنیا بھر سے ہمدردی کا اظہار کیا جارہا ہے، جبکہ لاپتا افراد کی بحفاظت واپسی کے لیے دعائیں کی جارہی ہیں۔
These visuals from the floods in Rasuwa, Nepal are absolutely horrific. The scale of the destruction looks unreal, almost like a scene from a disaster movie.The entire Himalayan belt needs to seriously work on better early warning systems for such flash floods. Prayers for… pic.twitter.com/7iiupXXIzT
— Nikhil saini (@iNikhilsaini) August 26, 2026



