ننگرپارکر کے عوامی مسائل پر ویرجی کولہی کے اہم نکات، اعلیٰ قیادت کے سامنے پیش

تھرپارکر(میندھرو کاجھروی / جانو ڈاٹ پی کے) عالمی یومِ مزدور یکم مئی کے موقع پر صوبائی مشیر ویرجی کولہی نے ننگرپارکر تعلقہ کے عوام کو درپیش اہم مسائل کے حوالے سے اپنی تقریر میں چار بنیادی مطالبات پیش کیے، جو انہوں نے وزیر اعلیٰ سندھ، پیپلز پارٹی کی قیادت اور دیگر اعلیٰ حکام کے سامنے رکھے۔

ویرجی کولہی نے کہا کہ ننگرپارکر شہر میں سبزی منڈی کا قیام وقت کی اہم ضرورت ہے، جس سے مقامی شہریوں اور ریڑھی بانوں کو براہِ راست فائدہ ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس وقت سبزیاں دیگر شہروں سے منگوائی جاتی ہیں، جس سے وقت اور اخراجات دونوں میں اضافہ ہوتا ہے۔

اپنے دوسرے نکتے میں انہوں نے کہا کہ تعلقہ میں قائم چائنا کلے کی غیر رجسٹرڈ فیکٹریوں کو قانون کے مطابق رجسٹر کیا جائے تاکہ وہاں کام کرنے والے مزدوروں کو بنیادی سہولیات میسر آسکیں۔ انہوں نے زور دیا کہ کسی بھی حادثے یا مزدور کی وفات کی صورت میں اس کے ورثاء کو معاوضہ دیا جائے اور مزدوروں کو سرکاری مقرر کردہ اجرت فراہم کی جائے۔

تیسرے نکتے میں انہوں نے کہا کہ ننگرپارکر میں صرف ایک نادرا آفس ہونے کی وجہ سے شدید رش رہتا ہے، لہٰذا دیہی علاقوں میں نادرا کی موبائل ٹیمیں تعینات کی جائیں۔ انہوں نے کہا کہ غریب لوگ ہزاروں روپے خرچ کر کے شہر آتے ہیں لیکن رش کے باعث ان کے شناختی کارڈ اور بی فارم بھی نہیں بن پاتے۔

چوتھے نکتے میں ویرجی کولہی نے ریونیو آفس میں فوتگی کھاتہ کی فیسوں سے متعلق شکایات کا ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی مقرر کردہ فیس صرف 500 روپے ہے، مگر ننگرپارکر میں 2 سے 3 لاکھ روپے تک وصول کیے جا رہے ہیں، جو سراسر زیادتی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ آفس کے باہر سرکاری فیس کا واضح بورڈ آویزاں کیا جائے اور شکایات کے لیے نمبر جاری کیا جائے، جبکہ غیرقانونی وصولیوں میں ملوث اہلکاروں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے۔

ویرجی کولہی کے ان مطالبات کو عوامی حلقوں کی جانب سے سراہا جا رہا ہے اور امید ظاہر کی جا رہی ہے کہ حکومت جلد ان مسائل کے حل کے لیے عملی اقدامات کرے گی۔

مزید خبریں

Back to top button