نئے انتظامی یونٹس کی مخالفت بے بنیاد ہے، مصطفیٰ کمال

کراچی (جانوڈاٹ پی کے) ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما مصطفیٰ کمال نے نئے انتظامی یونٹس کے قیام کی مخالفت کرنے والوں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ انتظامی یونٹس کی تشکیل سے قتل و غارت گری نہیں ہوگی، بلکہ اس اقدام کا مقصد ملک کو تقسیم کرنا نہیں بلکہ انتظامی طور پر مضبوط بنانا ہے۔
کراچی میں گفتگو کرتے ہوئے مصطفیٰ کمال نے کہا کہ کراچی، حیدرآباد اور سندھ کے دیگر شہری علاقوں میں مختلف زبانیں بولنے والے لوگ باہمی بھائی چارے کے ساتھ رہ رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر موجودہ شہری مسائل اور محرومیوں کی وجہ سے بدامنی پیدا ہونی ہوتی تو حالات پہلے ہی خراب ہوچکے ہوتے۔
انہوں نے کہا کہ نئے انتظامی یونٹس کے قیام کو بعض حلقوں کی جانب سے لسانی تناظر میں دیکھا جا رہا ہے اور یہ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اس کے نتیجے میں مختلف لسانی گروہوں کے درمیان کشیدگی پیدا ہوگی، تاہم ان کے مطابق یہ خدشات درست نہیں۔
ایم کیو ایم رہنما نے سندھ حکومت پر تنقید کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ کراچی کے نوجوانوں کو سرکاری ملازمتوں کے مواقع نہیں مل رہے اور کوٹا سسٹم کے حوالے سے بھی شہری علاقوں میں تحفظات پائے جاتے ہیں۔
مصطفیٰ کمال نے کراچی میں ٹریفک حادثات، اسٹریٹ کرائم اور دیگر واقعات میں شہریوں کے جانی نقصان کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ شہر کے بنیادی مسائل میں پینے کے پانی کی قلت، سڑکوں کی خراب صورتحال، سیوریج کے مسائل، بجلی اور گیس کی عدم دستیابی اور سرکاری محکموں میں مبینہ رشوت شامل ہیں۔
انہوں نے کے فور منصوبے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ کراچی کو طویل عرصے سے پانی کی فراہمی کے مسائل کا سامنا ہے اور منصوبہ اب تک مکمل نہیں ہوسکا۔
مصطفیٰ کمال نے الزام عائد کیا کہ ماضی میں سیاسی مفادات کے لیے مختلف لسانی اور علاقائی گروہوں کے درمیان اختلافات کو ہوا دی گئی، جس کے باعث عوام کے بنیادی مسائل، روزگار، تعلیم اور صحت جیسے معاملات پس منظر میں چلے گئے۔
ان کا کہنا تھا کہ نئے انتظامی یونٹس کی تجویز کسی قوم یا زبان کے خلاف نہیں بلکہ انتظامی امور کو بہتر بنانے اور عوام کے مسائل ان کی دہلیز پر حل کرنے کے لیے ہے۔
انہوں نے کہا کہ ملک میں ایسے انتظامی یونٹس کی ضرورت ہے جو شہریوں کو بنیادی سہولتیں فراہم کرنے اور مقامی مسائل کے حل میں مؤثر کردار ادا کرسکیں۔
مصطفیٰ کمال نے مزید کہا کہ ضرورت پڑنے پر وہ اور ان کے ساتھی ملک کے لیے ہر وقت اور ہر جگہ قربانی دینے کے لیے تیار ہیں۔



