وفاقی سول سروس میں بڑے پیمانے پر اصلاحات کی سفارش، 22 ترامیم اور 3 نئے قوانین تجویز

اسلام آباد (جانوڈاٹ پی کے) وزیراعظم کی جانب سے قائم کردہ سول سروس اصلاحات کمیٹی نے سمارٹ ریفارمز پیکیج تیار کرلیا، جس میں سول سرونٹس ایکٹ 1973 اور رولز آف بزنس 1973 میں مجموعی طور پر 22 ترامیم اور 3 نئے قوانین متعارف کرانے کی سفارش کی گئی ہے۔
وفاقی وزیر احسن اقبال کی سربراہی میں قائم کمیٹی نے بھارت سمیت 25 ممالک کے سول سروس نظام کا جائزہ لینے کے بعد اپنی حتمی سفارشات مرتب کی ہیں۔ مجوزہ اصلاحات میں وفاقی سول ملازمین کی بھرتی، تربیت، کارکردگی، ترقی، تعیناتی اور مراعات کے نظام میں نمایاں تبدیلیاں تجویز کی گئی ہیں۔
دستاویز کے مطابق سول سروس اصلاحات کے لیے آئین میں کسی ترمیم کی ضرورت نہیں ہوگی۔ افسران کی ترقی، تعیناتی اور مراعات کو صرف سنیارٹی کے بجائے کارکردگی اور قابلیت سے منسلک کرنے کی سفارش کی گئی ہے، جبکہ کارکردگی جانچنے کے لیے پالیسی سازی اور عوام کو فراہم کیے جانے والے نتائج کو بنیادی پیمانہ بنانے کی تجویز دی گئی ہے۔
مجوزہ پیکیج میں افسران کی تعیناتی کی مدت مقرر کرنے اور مدت مکمل ہونے سے قبل تبادلے کی صورت میں وجوہات ریکارڈ پر لانے کی سفارش بھی شامل ہے۔ گریڈ 21 اور اس سے اوپر کے افسران کی وفاقی اور صوبائی سروسز کے درمیان منتقلی کی اجازت دینے کی تجویز بھی دی گئی ہے۔
سفارشات کے مطابق سی ایس ایس امتحان برقرار رہے گا، تاہم ابتدائی ٹیسٹ میں کامیابی کی حد 33 فیصد سے بڑھا کر 40 فیصد کرنے اور منفی مارکنگ ختم کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ امیدواروں کی تجزیاتی صلاحیت جانچنے کے لیے امتحان میں الگ حصہ شامل کرنے کی سفارش بھی کی گئی ہے۔
مضمون، پریسی اینڈ کمپوزیشن، اسلامیات، مطالعہ پاکستان اور کرنٹ افیئرز کے امتحانات اردو میں کرانے کی تجویز دی گئی ہے، جبکہ امیدواروں کے لیے اردو اور انگریزی زبان میں عملی مہارت کی شرط برقرار رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔
ایک روزہ زبانی امتحان کے بجائے آئی ایس بی طرز پر امیدواروں کی صلاحیتوں کا جامع جائزہ لینے اور بھرتی کا مکمل عمل 6 ماہ یا اس سے کم مدت میں مکمل کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ کامیاب امیدواروں کو ان کی تعلیمی قابلیت سے متعلق مخصوص آسامیوں پر تعینات کرنے کی سفارش بھی کی گئی ہے۔
اصلاحاتی پیکیج میں گریڈ 19 تک افسران کی تعیناتی متعلقہ وزارتوں کے دائرہ اختیار میں رکھنے، جبکہ نیشنل، سینئر اور مڈ کیریئر مینجمنٹ کورسز میں داخلہ مسابقتی امتحان کے ذریعے دینے کی تجویز شامل ہے۔
کمیٹی نے نیشنل یونیورسٹی آف پبلک ایڈمنسٹریشن قائم کرنے کی سفارش بھی کی ہے۔ سکول آف پبلک پالیسی، انسٹی ٹیوٹس آف مینجمنٹ اور دیگر خصوصی تربیتی اداروں کو ایک مربوط نظام میں ضم کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
مجوزہ اصلاحات کے تحت ہر وزارت اور وزیراعظم کے درمیان سالانہ کارکردگی معاہدہ کرنے اور سال میں دو مرتبہ اس کا جائزہ لینے کی سفارش کی گئی ہے۔ پرفارمنس ایویلیوایشن رپورٹ کو افسران کے نتائج اور قابلیت کی بنیاد پر مرتب کرکے آن لائن کرنے کی تجویز بھی شامل ہے۔
دستاویز میں ملازمین کے مجموعی اخراجات کا 5 فیصد کارکردگی کی بنیاد پر اعزازی رقوم کے لیے مختص کرنے اور کارکردگی جانچنے کے لیے تین سطحی درجہ بندی کا نظام متعارف کرانے کی سفارش کی گئی ہے۔
قومی سطح پر کارکردگی کی نگرانی کے لیے سول سروس پرفارمنس ریویو بورڈ جبکہ سرکاری اداروں کے تھرڈ پارٹی جائزے کے لیے کابینہ ڈویژن میں آزاد پرفارمنس آبزرویٹری قائم کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
اصلاحات کے تحت گریڈ 20 اور اس سے اوپر کے افسران کے لیے نیشنل ایگزیکٹو سروس قائم کرنے اور اس کے لیے خصوصی پیشہ ورانہ پے اسکیل متعارف کرانے کی سفارش کی گئی ہے۔ سول سروس میں 11 نئے پیشہ ورانہ گروپس قائم کرنے کی تجویز بھی پیکیج کا حصہ ہے۔
اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کا نام اور کردار تبدیل کرکے اسے ہیومن ریسورس آرگنائزیشن ڈیویلپمنٹ ڈویژن بنانے کی سفارش کی گئی ہے۔ سول ملازمین کی تنخواہوں میں سالانہ بنیادوں پر مہنگائی کے حساب سے اضافہ، حکومت کی ضمانت پر گاڑیوں کے قرضے اور وفاقی سیکریٹریٹ میں کارکردگی سے منسلک تنخواہوں کا پائلٹ پروگرام شروع کرنے کی تجاویز بھی شامل ہیں۔
کمیٹی نے ریٹائرمنٹ کے موقع پر ملازمین کے لیے 50 لاکھ روپے کی یکمشت رقم پر مشتمل پیکیج دینے کی سفارش بھی کی ہے۔
دستاویز کے مطابق اصلاحات پر عملدرآمد کے لیے خصوصی کمیٹی قائم کرکے وزیراعظم کو ماہانہ بنیادوں پر پیش رفت رپورٹ پیش کرنے کی تجویز دی گئی ہے، جبکہ سول سروس اصلاحات سے متعلق کمیٹی کی سفارشات کی حتمی منظوری وزیراعظم سے لینے کی سفارش کی گئی ہے۔
کمیٹی کے مطابق مجوزہ پیکیج کا بنیادی مقصد سول سروس میں بھرتی، تربیت، کارکردگی، ترقی، تعیناتی اور مراعات کے نظام کو قابلیت، کارکردگی اور نتائج سے زیادہ مضبوطی سے منسلک کرنا ہے۔



