’’جو کام نہیں کر رہا، اسے فوراً نکال دیں‘‘، مصطفیٰ کمال کا پمز کا اچانک دورہ، خراب انتظامات پر اسٹاف کی کلاس

اسلام آباد (جانو ڈاٹ پی کے) وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے پمز کے کارڈیک سینٹر کا اچانک دورہ کرتے ہوئے اسپتال کے انتظامات اور پرائیویٹ رومز کی خستہ حالی پر شدید برہمی کا اظہار کیا اور دوٹوک الفاظ میں کہا کہ جو شخص اپنا کام نہیں کر رہا، اسے فوری طور پر نکال دیا جائے۔

وفاقی وزیر صحت نے پمز کے کارڈیک سینٹر کے مختلف رومز کا جائزہ لیا اور الیکٹرو فیزیالوجی کیتھ لیب کا بھی دورہ کیا۔ اس دوران انہوں نے مریضوں سے ملاقات کی اور انہیں درپیش مشکلات اور دستیاب سہولتوں کے بارے میں معلومات حاصل کیں۔

پمز کے کارڈیک پرائیویٹ رومز کی حالت دیکھ کر مصطفیٰ کمال اسٹاف پر برہم ہوگئے۔ انہوں نے دیواروں کی خراب حالت پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ دیوار کی حالت خراب ہے اور آپ صرف اسے پینٹ کر رہے ہیں، کسی دن یہ دیوار گرے گی تو پھر ہم سب یہاں آئیں گے۔

وفاقی وزیر صحت نے ایگزیکٹو ڈائریکٹر پمز ڈاکٹر سلمان کو سخت ہدایات دیتے ہوئے کہا کہ آپ کو اسپتال سمجھنے کے لیے 6 ماہ نہیں ملیں گے، فوری کام کرنا ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ اسپتال کی روزانہ مینٹیننس کی نگرانی نہ کی جائے تو پھر انتظامیہ کی ذمہ داری کیا ہے؟

مصطفیٰ کمال نے واضح کیا کہ کوئی کسی کا بھی آدمی ہو، اگر وہ کام نہیں کر رہا تو اسے فارغ کر دیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ باہر سے آکر کوئی اسپتال کے مسائل حل نہیں کرے گا، انتظامیہ کو خود ایکشن لینا ہوگا، بصورت دیگر وہ خود کارروائی کریں گے۔

وفاقی وزیر صحت نے سخت لہجے میں کہا کہ ان کے پاس ابھی تک ایک بھی ایسی رپورٹ نہیں آئی جس میں بتایا گیا ہو کہ کوئی ملازم کام نہیں کر رہا۔ انہوں نے کہا کہ اگر کوئی شخص ذمہ داری پوری نہیں کر رہا تو روزانہ 10 افراد کو بھی نکالنا پڑے تو انتظامیہ ایکشن لے۔

دورے کے دوران پمز انتظامیہ نے وفاقی وزیر صحت کو شکایت کی کہ اسپتال میں اختیارات مرکزی نوعیت کے ہیں اور انتظامی طاقت ایک شخص کے پاس مرکوز ہے۔

جس پر مصطفیٰ کمال نے کہا کہ تحریری طور پر بتائیں کہ اختیارات کا کون سا ماڈل ہونا چاہیے، اگر طاقت تقسیم کرنے کی ضرورت ہے تو اسے تقسیم کر دیتے ہیں۔

وفاقی وزیر صحت کے اچانک دورے اور سخت احکامات کے بعد پمز انتظامیہ اور اسٹاف میں ہلچل مچ گئی جبکہ اسپتال کے انتظامی معاملات اور سہولتوں کی بہتری کے حوالے سے فوری اقدامات کا امکان پیدا ہوگیا۔

مزید خبریں

Back to top button