سندھ میں بدامنی کی آگ بھڑک رہی ہے،مولانا راشد محمود سومرو

ٹھٹھہ(رپورٹ:جاوید لطیف میمن/جانوڈاٹ پی کے)جمعیت علماء اسلام سندھ کے جنرل سیکریٹری مولانا راشد محمود سومرو نے کہا ہے کہ سندھ میں بدامنی کی آگ بھڑک رہی ہے، اغوا برائے تاوان کی وارداتوں میں اضافہ ہو رہا ہے جبکہ معصوم بچوں کو اغوا کرکے زیادتی کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ ایک سال کے دوران 70 ارب روپے کی گندم خریداری میں کرپشن کی گئی جبکہ منشیات کے ٹرالر شہروں تک پہنچ رہے ہیں۔

ٹھٹھہ میں جے یو آئی کی جنرل کونسل کے اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مولانا راشد محمود سومرو نے چارسدہ واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے مولانا ادریس شیخ کی شہادت پر افسوس کا اظہار کیا اور مطالبہ کیا کہ قاتلوں کو فوری طور پر کیفر کردار تک پہنچایا جائے۔انہوں نے کہا کہ کیا جمعیت علماء اسلام نے جنازے اٹھانے کا ٹھیکہ لے رکھا ہے؟ آئین، پارلیمنٹ اور قانون کی بالادستی کی بات کرنے والوں کو لاشیں دی جا رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جے یو آئی ف کے پاس شہداء کی ایک طویل فہرست موجود ہے۔مولانا راشد محمود سومرو نے اعلان کیا کہ 14 اپریل کو ایک بڑے جلسہ عام کا انعقاد کیا جائے گا جس میں مولانا فضل الرحمان شرکت کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ صوبوں کے اختیارات کم نہیں کیے جانے چاہئیں اور دریاؤں پر ڈاکے کے خلاف سخت احتجاج کیا گیا ہے۔ اگر 28ویں آئینی ترمیم کے ذریعے صوبائی خودمختاری یا وسائل وفاق کے حوالے کرنے کی کوشش کی گئی تو جے یو آئی سخت احتجاج کرے گی۔انہوں نے کہا کہ سندھ میں منشیات عام ہو چکی ہے جبکہ منشیات کے خلاف اسمبلی اجلاس، نیب اور ایف آئی اے سمیت دیگر اداروں کی کارروائیاں محض عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے مترادف ہیں۔انہوں نے راشد شاہ راشدی سے متعلق بیان بازی کو نامناسب قرار دیتے ہوئے کہا کہ سیاست برداشت، اخلاق اور آئینہ دکھانے کا نام ہے، گالم گلوچ کا نہیں۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ عوام کے ووٹ کو دریاؤں کے سودے، کرپشن اور ڈاکوؤں کو تحفظ دینے کے لیے استعمال کیا گیا۔اس موقع پر قیوم ہالیجوی، حاجی مالک، حاجی رفیق، سلیم سندھی، مولانا احمد سومرو، سلیم عاطف، مولانا عبدالوہاب بلوچ سمیت دیگر رہنما بھی موجود تھے۔

مزید خبریں

Back to top button