میرپورخاص،بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کرپشن کیس میں گرفتار فرنچائز مالک کے مزید انکشافات

میرپورخاص(رپورٹ:شاھدمیمن/جانوڈاٹ پی کے)میرپورخاص میں بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت بیواؤں،غریب اورمستحق خواتین کیلئے آنے والی امدادی رقوم میں مبینہ کرپشن اور کٹوتیوں کے الزام میں گرفتارفرنچائز مالک ذیشان بشیر نے مزید اہم انکشافات کیے ہیں۔
ذیشان بشیر نے الزام عائد کیا کہ اس کرپشن اسکینڈل کا ماسٹر مائنڈ میرپورخاص کا ڈپٹی ڈائریکٹر معروف بانبھڻ ہے جبکہ ڈائریکٹر بی آئی ایس پی فیض اعوان بھی اس میں شامل ہیں۔ اس نے دعویٰ کیا کہ مستحق خواتین کی رقم میں کی جانے والی کٹوتیوں کا حصہ ڈائریکٹر جنرل تک پہنچایا جاتا ہے اس نے مزید الزام لگایا کہ ڈپٹی ڈائریکٹر ہر ڈیوائس ہولڈر سے 2 سے 5 لاکھ روپے ایڈوانس وصول کرتا ہے، جبکہ فرنچائز کمپنی کا نمائندہ وجاہت خان بی آئی ایس پی حکام اور کمپنی کے درمیان رابطے کا کردار ادا کرتا ہے ذیشان بشیر کے مطابق اس کے پاس 40 ڈیوائسز ہیں اور ہر ڈیوائس ہولڈر مستحق خواتین سے 5 سے 8 ہزار روپے تک کٹوتی کرتا ہے، جس میں پولیس، وفاقی تحقیقاتی ادارے، اسپیشل برانچ، صحافیوں، فرنچائز مالکان، ڈیوائس ہولڈرز اور بی آئی ایس پی حکام تک حصہ پہنچتا ہے اس نے مزید بتایا کہ مختلف افراد کے پاس متعدد ڈیوائسز موجود ہیں، جبکہ میرپورخاص پولیس ہر قسط کے دوران ہر ڈیوائس ہولڈر سے 2 لاکھ روپے وصول کرتی ہے اس نے بعض صحافیوں پر بھی رقوم وصول کرنے کا الزام عائد کیا ذیشان بشیر نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ وجاہت خان ہر مستحق خاتون کے حساب سے رٹیلرز سے ایک ہزار سے پندرہ سو روپے وصول کرتا ہے، جس میں سے نصف رقم متعلقہ حکام کو دی جاتی ہے۔ مزید یہ کہ ڈپٹی ڈائریکٹر معروف بانبھڻ مبینہ طور پر اپنے ڈرائیور خالد کے ذریعے رٹیلرز سے اضافی رقوم وصول کرتا ہے۔



