تھر سٹیزن فورم کاڈپٹی کمشنر تھرپارکر سے ملاقات،تھر کول متاثرین اور گوچر زمینوں کے مسائل پر تفصیلی غور

تھرپارکر(رپورٹ:میندھرو کاجھروی/جانوڈاٹ پی کے)ڈپٹی کمشنر تھرپارکر عبدالحلیم جاگیرانی سے ان کے دفتر میں تھر سٹیزن فورم کے ایک وفد نے، اوبایو جونیجو کی قیادت میں ملاقات کی، جس دوران ضلع تھرپارکر کو درپیش مختلف عوامی مسائل پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ملاقات میں تھر کول کے متاثرین کے مسائل، انتقال فوتی کھاتوں میں مبینہ رشوت طلبی، درختوں کی کٹائی، گوچر اور سرکاری زمینوں پر قبضوں کے خاتمے سمیت گوچر زمینوں پر آبادکاری روکنے جیسے اہم معاملات زیر بحث آئے۔ وفد نے مؤقف اختیار کیا کہ تھر کول بلاک ون کے متاثرین کو متبادل رہائش کی فراہمی کے لیے مقامی نمائندوں اور دیگر اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ اجلاس منعقد کرکے مستقل حل نکالا جائے۔
وفد نے مزید کہا کہ تھر کول کے 12 بلاکس سے مستقبل میں مزید افراد متاثر ہوں گے، اس لیے متاثرین کی بہتر آبادکاری کے لیے مکمل بنیادی سہولیات سے آراستہ دو ماڈل ٹاؤنز کی منصوبہ بندی کی جانی چاہیے تاکہ عوام کو مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ڈپٹی کمشنر عبدالحلیم جاگیرانی نے وفد کے نکات غور سے سنتے ہوئے یقین دہانی کرائی کہ تھر سٹیزن فورم کی جانب سے پیش کردہ مسائل اور تجاویز کو قانونی دائرہ کار میں رہتے ہوئے حل کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ریونیو ریکارڈ آف رائٹس سے متعلق عوامی شکایات کے ازالے کے لیے ہر تعلقے میں کھلی کچہریاں منعقد کی جائیں گی۔انہوں نے وفد کو آگاہ کیا کہ تھر کول بلاک ون سے متاثرہ تمام افراد زمینوں اور گھروں کے معاوضے وصول کرکے نیو تلوائیو اور وروائی میں ری سیٹلمنٹ پالیسی کے تحت منتقل ہو چکے ہیں، جہاں کمپنی کی جانب سے بنیادی سہولیات فراہم کی گئی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ صرف 35 گھروں کا مسئلہ باقی تھا، جو اب حل ہو چکا ہے اور انہیں بھی پالیسی کے مطابق سہولیات فراہم کی جائیں گی۔ڈپٹی کمشنر نے عوام پر زور دیا کہ وہ ضلعی انتظامیہ کے ساتھ تعاون کریں اور درختوں کی کٹائی روکنے کے ساتھ گوچر زمینوں پر غیر قانونی کاشتکاری نہ ہونے دیں۔وفد میں اوبایو جونیجو، اعجاز بجیر، ساجن چارو، قربان سمیجو اور جی ایم بجیر شامل تھے۔ ملاقات کے دوران وفد نے اپنے مؤقف پر مبنی تحریری درخواستیں بھی ڈپٹی کمشنر کو پیش کیں۔



