میرپورخاص کے رہائشی نوجوان نے پولیس کی جانب سے تشدد کا الزام عائد کردیا

میرپورخاص(رپورٹ:شاھدمیمن/جانوڈاٹ پی کے)میرپورخاص میں کھپرو اسٹینڈ کے رہائشی دیالو کولہی نے پاکستان دراوڑ اتحاد کے رہنما فقیر شیوا کچھی کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ مہران تھانے کے دو پولیس اہلکار امام بخش عرف حاجو ناریجو اور عابد ناریجو انہیں گھر سے اٹھا کر ایس ایس پی سٹی کے دفتر لے گئے، جہاں اے ایس پی سٹی نے ان سے کہا کہ وہ بیان دیں کہ وہ سابق سی آئی اے انچارج عنایت زرداری اور موجودہ ڈی آئی بی انچارج دانش بھٹی کی سرپرستی میں منشیات فروخت کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایسا بیان دینے سے انکار کیا اور اہلکاروں کو بتایا کہ وہ گزشتہ سات ماہ سے ایسے کسی کام میں ملوث نہیں ہیں اور ایک برتن کی دکان پر کام کرتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ انکار کرنے پر خاتون اے ایس پی برہم ہوگئیں اور وہاں موجود اہلکار امام بخش، عابد ناریجو، خادم آرائیں، عاشق پنہور، روشن جروار اور اے ایس پی کے پی ایس او راشد نے ان پر مبینہ طور پر تشدد کیا۔ دیالو کولہی کا کہنا تھا کہ بعد ازاں ان پر سفینہ کی 100 پڑیاں رکھنے کا مقدمہ درج کرکے چالان کیا گیا۔

اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے دراوڑ اتحاد کے شیوا کچھی نے کہا کہ دیالو کولہی انکا ملازم ہیں اور ان کی برتن کی دکان پر کام کرتا ہے، انہوں نے کہا کہ پولیس تشدد کے بعد عدالت کے ذریعے سول اسپتال سے میڈیکل چیک اپ کروایا ہے، جس میں دیالو کولہی پر سخت تشدد کی تصدیق ہوئی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پولیس کے مبینہ تشدد اور خوف کے باعث دیالو کولہی اور ان کے اہل خانہ اپنی جائیداد فروخت کرکے ملک چھوڑنے پر مجبور ہوگئے ہیں۔ انہوں نے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا کہ معاملے کی شفاف تحقیقات کرکے انہیں انصاف فراہم کیا جائے۔

مزید خبریں

Back to top button