مٹھی کے قریب300ایکڑ سرکاری چراگاہ پر قبضے کا تنازع،دیہاتیوں پرحملےاورفائرنگ کے الزامات

تھرپارکر(رپورٹ:میندھرو کاجھروی/جانو ڈاٹ پی کے)مٹھی کے قریب گاؤں سمون رند کے علاقے میں سرکاری چراگاہ کے لیے مختص تقریباً 300 ایکڑ زمین پر قبضے کا تنازع ایک نیا رخ اختیار کر گیا ہے۔ دیہاتیوں نے الزام عائد کیا ہے کہ بااثر شخصیت دین محمد راہموں کی حمایت میں ابوبکر راہموں نے پولیس کی موجودگی میں غریب دیہاتیوں پر حملہ کروایا، جس دوران فائرنگ کے ساتھ لاٹھیوں اور کلہاڑیوں کا بھی آزادانہ استعمال کیا گیا۔ شاہی خان رند، میر حسن رند، مرزو اور سومرو نے احتجاج کرتے ہوئے صحافیوں کو بتایا کہ مذکورہ 300 ایکڑ سرکاری چراگاہ کی زمین کے مبینہ جعلی اور بوگس دستاویزات تیار کرکے زمین ایک بااثر شخص کے نام منتقل کرائی گئی تھی، تاہم بعد ازاں کمشنر میرپورخاص اور محکمہ ریونیو کی تحقیقات میں ان دستاویزات کو جعلی قرار دے کر منسوخ کر دیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس کے باوجود اثر و رسوخ استعمال کرتے ہوئے قبضہ برقرار رکھا گیا اور ابوبکر راہموں کو مسلح افراد کے ساتھ سرکاری زمین پر بٹھا دیا گیا۔دیہاتیوں کے مطابق عیسیٰ راہموں، موسیٰ راہموں، علی محمد راہموں، رحیم اور دیگر مسلح افراد نے لاٹھیوں، کلہاڑیوں اور اسلحے کے زور پر نہ صرف زمین پر کاشت کرنے کی کوشش کی بلکہ احتجاج کرنے والے مردوں، خواتین اور معصوم بچوں پر بھی حملہ کیا، جس سے علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ متاثرہ دیہاتیوں نے آئی جی سندھ، ڈی آئی جی میرپورخاص، ایس ایس پی تھرپارکر اور دیگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ 300 ایکڑ سرکاری چراگاہ کی زمین سے مبینہ قبضہ فوری طور پر ختم کرایا جائے، زمین کو اس کے اصل مقصد یعنی مویشیوں کی چراگاہ کے طور پر بحال کیا جائے، اور واقعے میں ملوث افراد کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے۔

مزید خبریں

Back to top button