طالب علم کی مبینہ جبری گمشدگی کے خلاف جسقم کا احتجاج، فوری بازیابی کا مطالبہ

بدین (رپورٹ: مرتضیٰ میمن) جسقم کی مرکزی قیادت کی اپیل پر جسقم یونٹ پنگریو نے سجاول کے رہائشی طالب علم مانک لغاری کی مبینہ جبری گمشدگی کے خلاف پنگریو پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ اور دھرنا دیا۔
احتجاج کی قیادت ارشد چانڈیو، ایاز جونیجو اور مہتاب جونیجو نے کی، جبکہ مظاہرین نے ہاتھوں میں بینرز اور پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر طالب علم کی فوری بازیابی اور قانون کے مطابق کارروائی کے مطالبات درج تھے۔
مقررین کا کہنا تھا کہ تقریباً دس روز قبل مانک لغاری کو مبینہ طور پر حیدرآباد کے ایک ہوٹل سے پولیس اپنی تحویل میں لے گئی، تاہم اس کے بعد نہ تو اس کی موجودگی کسی تھانے میں ظاہر کی گئی اور نہ ہی اسے کسی عدالت میں پیش کیا گیا، جس کے باعث اہلِ خانہ شدید تشویش کا شکار ہیں۔
احتجاجی رہنماؤں نے مطالبہ کیا کہ اگر طالب علم پر کسی بھی نوعیت کا قانونی الزام موجود ہے تو اسے آئین اور قانون کے مطابق فوری طور پر عدالت میں پیش کیا جائے تاکہ قانونی تقاضے پورے کیے جا سکیں۔
انہوں نے کہا کہ کسی بھی شہری کو قانونی کارروائی کے بغیر لاپتا رکھنا بنیادی انسانی حقوق اور آئینی اصولوں کے منافی ہے۔
جسقم یونٹ پنگریو نے ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا کہ مانک لغاری کو فوری طور پر بازیاب کر کے اہلِ خانہ کے سامنے پیش کیا جائے۔
رہنماؤں نے خبردار کیا کہ اگر طالب علم کی فوری بازیابی عمل میں نہ لائی گئی تو احتجاج کا دائرہ مزید وسیع کیا جائے گا اور تحریک میں شدت لائی جائے گی۔
نوٹ: خبر میں شامل جبری گمشدگی اور پولیس تحویل سے متعلق دعوے احتجاجی رہنماؤں کے بیانات پر مبنی ہیں، جن پر متعلقہ حکام کا مؤقف سامنے نہیں آیا۔



