میرپورخاص پبلک اسکول میں ہاؤس آف جونیئر لیڈرز کے اشتراک سے مباحثے کا اہتمام

میرپورخاص(شاھد میمن/جانوڈاٹ پی کے )میرپورخاص پبلک اسکول میں ہاؤس آف جونیئر لیڈرز کے اشتراک سے “میرا تعلیمی نظام، میری ذمہ داری” کے عنوان سے ایک فکری اور معلوماتی پینل ڈسکشن کا انعقاد کیا گیا، جس میں ماہرینِ تعلیم، منتظمین اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی اہم شخصیات نے شرکت کی۔ پینلسٹوں میں پروفیسر عمران پرنسپل پبلک اسکول میرپورخاص، پروفیسر نوید سروش ہیڈ آف ڈیپارٹمنٹ شعبہ اردو ایس اے ایل کالج میرپورخاص، رائے چندو مل ایڈیشنل ڈائریکٹر ہائر سیکنڈری اسکولز میرپورخاص، فیصل زئی صدر آل پاکستان پرائیویٹ اسکولز مینجمنٹ ایسوسی ایشن، وزیر احمد ڈائریکٹر ایڈمیشن میرپورخاص یونیورسٹی، پروفیسر ڈاکٹر سہیل سرہندی رجسٹرار میرپورخاص یونیورسٹی اور پروفیسر ڈاکٹر پرویز احمد پرو وائس چانسلر سکھر آئی بی اے یونیورسٹی میرپورخاص شامل تھے، پینل ڈسکشن کے دوران مقررین نے پاکستان کے تعلیمی نظام کو درپیش مسائل، اساتذہ کی ذمہ داریوں، جدید ٹیکنالوجی کے استعمال، طلبہ کی تربیت، اسٹوڈنٹ کونسلنگ اور نجی تعلیمی اداروں کے کردار پر تفصیلی اظہارِ خیال کیا۔ ایک سوال کے جواب میں پروفیسر ڈاکٹر پرویز احمد نے کہا کہ ملک کی بیشتر جامعات میں ہونے والی تحقیق سماجی اور معاشرتی مسائل کے حل پر مرکوز نہیں، جس کے باعث پاکستانی ریسرچ کو بین الاقوامی تحقیقی جرائد میں خاطر خواہ پذیرائی حاصل نہیں ہو پاتی۔ انہوں نے زور دیا کہ یونیورسٹیوں کو ایسی تحقیق کو فروغ دینا ہوگا جو معاشرے کو درپیش حقیقی مسائل کے حل میں مؤثر کردار ادا کر سکے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اعلیٰ تعلیم کے اداروں کو عالمی معیار کے مطابق تحقیق اور جدت پر خصوصی توجہ دینا ہوگی تاکہ پاکستانی جامعات عالمی سطح پر نمایاں مقام حاصل کر سکیں۔ ایک سوال کے جواب میں پروفیسر عمران نے کہا کہ اگر معاشرے کا ہر فرد اپنی ذمہ داری احسن انداز میں ادا کرے تو تعلیمی نظام میں بہتری لانا مشکل نہیں۔ انہوں نے کہا کہ اجتماعی کوششوں کے ذریعے ہی مثبت تبدیلی ممکن ہے۔ پروفیسر ڈاکٹر سہیل سرہندی نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایک استاد کا کام صرف پڑھانا نہیں بلکہ خود کو جدید تقاضوں اور نئی ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ رکھنا بھی ہے تاکہ طلبہ کو بہتر انداز میں تعلیم دی جا سکے۔ رائے چندو مل نے کہا کہ محکمہ تعلیم تعلیمی معیار کو بہتر بنانے کے لیے “ٹیچر لائسنس” کے اجرا پر کام کر رہا ہے، جس سے تدریسی نظام مزید مؤثر ہوگا۔ پروفیسر نوید سروش نے کہا کہ پاکستانی طلبہ ذہانت اور صلاحیت کے اعتبار سے دنیا کے کسی بھی ملک کے طلبہ سے کم نہیں، تاہم انہیں تعلیم کے ساتھ بہتر تربیت کی بھی اشد ضرورت ہے، اسٹوڈنٹ کونسلنگ کے حوالے سے اظہارِ خیال کرتے ہوئے وزیر احمد نے کہا کہ ترقی یافتہ ممالک میں تعلیمی اداروں میں باقاعدہ اور مؤثر کونسلنگ سسٹم موجود ہے، جبکہ پاکستان میں اس شعبے کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔ فیصل زئی نے کہا کہ آل پاکستان پرائیویٹ اسکولز مینجمنٹ ایسوسی ایشن نجی تعلیمی اداروں میں تعلیمی معیار کی بہتری کے لیے مختلف اقدامات کر رہی ہے، جن میں اساتذہ کی تربیت کو اولین ترجیح حاصل ہے۔ پروگرام کے دوسرے حصے میں میرپورخاص کے مختلف تعلیمی اداروں سے تعلق رکھنے والے طلبہ نے پینلسٹوں سے مختلف سوالات کیے، جن کے مقررین نے تفصیلی اور مدلل جوابات دیے۔ پروگرام کے اختتام پر پروفیسر عمران اور جاوید اقبال نے پینلسٹوں کو سندھ کی ثقافت کی علامت اجرک اور سووینئر کے تحائف پیش کیے۔ آخر میں شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ تعلیمی نظام کی بہتری اور معیاری تعلیم کے فروغ کے لیے مشترکہ طور پر اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے رہیں گے۔

 

مزید خبریں

Back to top button