سیز فائر ختم؟ ایران کی میزائل فورس الرٹ

اسلام آباد: خصوصی رپورٹ (جانو ڈاٹ پی کے)مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی نے ایک بار پھر خطرناک رخ اختیار کر لیا ہے اور 15 روزہ عارضی سیز فائر ختم ہونے کے آثار نمایاں ہو گئے ہیں۔ ابنائے ہرمز میں امریکی بحریہ کی جانب سے ایرانی تیل بردار جہاز ‘کوسٹکا’ پر قبضے اور فائرنگ کے بعد ایران نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے امریکی جنگی جہازوں پر ڈرون حملے کیے ہیں۔ ایرانی سرکاری خبر رساں ادارے ‘تسنیم’ نے ان حملوں کی تصدیق کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ ایران اب امریکہ سے مذاکرات کی میز پر نہیں بلکہ میدانِ جنگ میں بات کرنے کے لیے تیار ہے۔ مزید برآں، ایران نے ابنائے ہرمز سے گزرنے والے ایک فرانسیسی جہاز پر بھی فائرنگ کی ہے جس کی تصدیق میری ٹائم ایجنسیوں نے کر دی ہے۔
اس تازہ کشیدگی نے پاکستان کی جانب سے کی جانے والی امن کوششوں پر بھی سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔ اگرچہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جیرڈ کشنر اور اسٹیو وٹکوف کو مذاکرات کے لیے پاکستان بھیجنے کا اعلان کیا ہے، تاہم ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ بحری ناکہ بندی (Naval Blockade) برقرار رہنے تک مذاکرات کا کوئی فائدہ نہیں۔ پاکستان میں تعینات ایرانی سفیر رضا امیر مقدم نے بھی صدر ٹرمپ کے طرزِ عمل پر تنقید کرتے ہوئے اسے قول و فعل کے تضاد سے تعبیر کیا ہے۔ ذرائع کے مطابق، اسلام آباد میں سیکیورٹی ہائی الرٹ کر دی گئی ہے اور اہم ہوٹلوں کو خالی کرا لیا گیا ہے، لیکن ایران کی جانب سے مذاکرات میں شرکت فی الحال یقینی نہیں ہے۔
معاملہ اس وقت بگڑا جب پاکستان کے فیلڈ مارشل عاصم منیر کے دورہ ایران کے دوران صدر ٹرمپ نے ابنائے ہرمز کے کھلنے کو اپنی ‘جنگی فتح’ قرار دے دیا، جسے تہران نے اپنی توہین سمجھا۔ ایران کا موقف ہے کہ وہ 40 روز تک عالمی قوتوں کے سامنے ڈٹ کر کھڑا رہا اور اب کسی دباؤ میں آکر مذاکرات نہیں کرے گا۔ تازہ ترین صورتحال کے مطابق، ایران نے اپنی میزائل فورس کو الرٹ کر دیا ہے اور اسرائیل نے بھی دوبارہ حملوں کی دھمکی دی ہے، جس سے خطے میں ایک نئی اور بڑی جنگ بھڑکنے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔ اس سنگین صورتحال کی مکمل تفصیلات کے لیے معظم فخر کا یہ وی لاگ دیکھیں۔




