کلوئی اور ڈِیپلو میں مویشی چوری کی وارداتوں میں اضافہ، مالوند راتیں جاگ کر گزارنے پر مجبور،15بھیڑیں چوری

تھرپارکر(رپورٹ: میندھرو کاجھروی/ جانو ڈاٹ پی کے) ڈِیپلو، کلوئی اور گردونواح کے دیہات میں مویشی چوری کی وارداتیں معمول بننے سے مالوند افراد شدید پریشانی کا شکار ہوگئے ہیں، جبکہ دیہاتی اپنے مویشیوں کی حفاظت کے لیے راتیں جاگ کر گزارنے پر مجبور ہیں۔ تازہ واقعے میں ڈِپلو کے علاقے کوڑیو سے نامعلوم چور مالوند راسو ٹھاکر کی 15 بھیڑیں چوری کرکے فرار ہوگئے۔
متاثرہ مالوند راسو ٹھاکر کے مطابق وہ مویشی پال کر اپنا گزر بسر کرتا ہے، تاہم علاقے میں مسلسل چوری کی وارداتوں کے باعث اس کے مویشی بھی محفوظ نہیں رہے۔ انہوں نے بتایا کہ رات کے وقت نامعلوم چور ان کے باڑے سے 15 بھیڑیں لے کر فرار ہوگئے، جس کے باعث انہیں لاکھوں روپے کا مالی نقصان اٹھانا پڑا ہے۔
راسو ٹھاکر کا کہنا ہے کہ چوروں کے قدموں کے نشانات جائے وقوعہ پر موجود ہیں، اس لیے پولیس نشانات کا سراغ لگا کر ملزمان تک پہنچ سکتی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ واقعے کا فوری نوٹس لے کر چوروں کو گرفتار کیا جائے، چوری شدہ مویشی برآمد کیے جائیں اور انہیں انصاف فراہم کیا جائے۔
علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ ڈِیپلو، کلوئی اور گردونواح کے دیہات میں مویشی چوری کی بڑھتی ہوئی وارداتوں کے باعث خوف و ہراس اور بے چینی پائی جاتی ہے۔ تھر کے متعدد مالوند خاندانوں کا روزگار مویشیوں سے وابستہ ہے، اس لیے مویشیوں کی چوری ان کی معاشی زندگی کو براہِ راست متاثر کرتی ہے۔
دیہاتیوں نے تھرپارکر پولیس سے مطالبہ کیا ہے کہ رات کے اوقات میں پولیس چوکیوں پر آنے جانے والی گاڑیوں کی سخت چیکنگ یقینی بنائی جائے، مختلف راستوں اور دیہات کی جانب جانے والی سڑکوں پر پولیس گشت بڑھایا جائے اور مویشی چوری میں ملوث عناصر کے خلاف مؤثر کارروائی کی جائے، تاکہ مویشی چوری سمیت دیگر وارداتوں پر قابو پایا جاسکے۔
متاثرہ مالوند راسو ٹھاکر سمیت علاقہ مکینوں نے آئی جی سندھ، ڈی آئی جی میرپورخاص اور ایس ایس پی تھرپارکر سے مطالبہ کیا ہے کہ مویشی چوری کی بڑھتی ہوئی وارداتوں کا فوری نوٹس لے کر مالوند افراد اور ان کے مویشیوں کو تحفظ فراہم کیا جائے۔



