ماتلی میں غیر منظور شدہ ہاؤسنگ اسکیموں کا پھیلاؤ، شہری بنیادی سہولیات اور قانونی مسائل کا شکار

ماتلی (ایم آر گدی/جانو ڈاٹ پی کے) ماتلی شہر اور اس کے نواحی علاقوں، بالخصوص دیہہ کاٹھوڑ اور بائی پاس سے ملحقہ علاقوں میں زرعی زمینوں کو رہائشی و کمرشل پلاٹوں میں تقسیم کرکے فروخت کیے جانے کے بڑھتے ہوئے رجحان نے شہریوں میں تشویش پیدا کر دی ہے۔ متاثرین اور سماجی حلقوں کا کہنا ہے کہ متعدد ہاؤسنگ اسکیمیں متعلقہ اداروں سے باقاعدہ منظوری حاصل کیے بغیر قائم کی گئیں، جس کے باعث پلاٹ خریدار آج بنیادی سہولیات کی عدم دستیابی اور مختلف قانونی مسائل کا سامنا کر رہے ہیں۔ مقامی افراد کے مطابق گزشتہ چند برسوں کے دوران زرعی زمینوں کو چھوٹے چھوٹے پلاٹوں میں تقسیم کرکے فروخت کرنے کا رجحان تیزی سے بڑھا ہے اور بڑی تعداد میں لوگوں نے نسبتاً کم قیمت ہونے کی وجہ سے ان منصوبوں میں سرمایہ کاری کی، تاہم وقت گزرنے کے ساتھ متعدد خریداروں کو معلوم ہوا کہ کئی اسکیموں میں نہ تو بنیادی سہولیات موجود ہیں اور نہ ہی مستقبل میں ترقیاتی کاموں کے حوالے سے کوئی واضح منصوبہ بندی نظر آتی ہے۔
متاثرہ مکینوں کے مطابق متعدد رہائشی کالونیوں میں بجلی، پینے کے صاف پانی، گیس، سیوریج اور نکاسی آب سمیت بنیادی سہولیات تاحال فراہم نہیں کی جا سکیں، جس کے باعث روزمرہ زندگی شدید متاثر ہو رہی ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ مون سون سیزن کی آمد کے ساتھ ان علاقوں میں مشکلات مزید بڑھنے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے کیونکہ گزشتہ برسوں کے دوران بارشوں کے نتیجے میں متعدد کالونیاں اور رہائشی علاقے زیر آب آتے رہے ہیں۔ مکینوں کے مطابق بارش کے پانی کی نکاسی کے مناسب انتظامات نہ ہونے کے باعث گلیوں اور سڑکوں پر کئی کئی روز تک پانی کھڑا رہتا ہے، جس سے آمدورفت متاثر ہونے کے ساتھ ساتھ مختلف بیماریوں کے پھیلنے کا خطرہ بھی بڑھ جاتا ہے۔ بعض رہائشیوں کا کہنا ہے کہ بارشوں کے دوران انہیں گھٹنوں بلکہ بعض مقامات پر کمر تک پانی میں گزر کر روزمرہ ضروریات پوری کرنا پڑتی ہیں، جبکہ خواتین، بچوں اور بزرگوں کو سب سے زیادہ مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
شہریوں کے مطابق ان ہاؤسنگ اسکیموں میں پلاٹ خریدنے والے افراد کو اس وقت مزید پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے جب وہ مکان کی تعمیر، نقشہ منظوری یا بینک قرض کے حصول کے لیے متعلقہ اداروں سے رجوع کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ بعض معاملات میں سرکاری ریکارڈ میں زمین کی حیثیت اب بھی زرعی درج ہے، جس کے باعث تعمیراتی نقشوں کی منظوری اور بینکوں سے قرض کے حصول میں رکاوٹیں پیدا ہوتی ہیں۔ متاثرین کے مطابق کئی خاندان اپنی جمع پونجی خرچ کرنے کے باوجود آج تک قانونی اور انتظامی پیچیدگیوں سے نکلنے میں کامیاب نہیں ہو سکے۔
عوامی اور سماجی حلقوں نے اس صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ ماتلی اور اس کے نواحی علاقوں میں قائم تمام ہاؤسنگ اسکیموں کا جامع سروے کرایا جائے اور عوام کو واضح طور پر آگاہ کیا جائے کہ کون سی اسکیمیں متعلقہ قوانین اور ضوابط کے مطابق منظور شدہ ہیں اور کن منصوبوں کی قانونی حیثیت مشکوک یا غیر واضح ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ متعلقہ اداروں کی جانب سے مؤثر نگرانی اور بروقت کارروائی نہ ہونے کے باعث ایسے منصوبوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے، جس کا براہِ راست نقصان عام خریداروں کو برداشت کرنا پڑ رہا ہے۔
شہری حلقوں نے حکومت سندھ، ضلعی انتظامیہ، متعلقہ ٹاؤن پلاننگ حکام اور دیگر ذمہ دار اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ غیر منظور شدہ ہاؤسنگ اسکیموں کے معاملات کی شفاف تحقیقات کرائی جائیں، عوام کو درپیش قانونی و انتظامی مشکلات کا ازالہ کیا جائے، بنیادی سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے اور مون سون سیزن سے قبل نشیبی علاقوں میں نکاسی آب کے ہنگامی انتظامات کیے جائیں تاکہ ممکنہ جانی و مالی نقصانات سے بچا جا سکے۔ عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ شہریوں کی زندگی بھر کی جمع پونجی ایسے منصوبوں میں لگی ہوئی ہے، اس لیے ضروری ہے کہ متعلقہ ادارے ہاؤسنگ اسکیموں کی منظوری، زمینوں کی قانونی حیثیت اور بنیادی سہولیات کی فراہمی کے معاملات پر سنجیدگی سے توجہ دیں اور ایسے مؤثر اقدامات کریں جن سے شہریوں کے حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے اور مستقبل میں مزید افراد مالی اور قانونی مشکلات کا شکار ہونے سے بچ سکیں۔



