’ماشا اللہ‘ کہنا بھارتی مسلمان خاتون پولیس افسر کو مہنگا پڑگیا،عہدے سے ہٹادیاگیا

کولکتہ(جانو ڈاٹ پی کے) بھارت میں مسلمان خاتون پولیس افسر ڈاکٹر بشریٰ بانو کو مبینہ طور پر ویڈیو پیغام میں ’السلام علیکم‘ اور ’ماشا اللہ‘ کے الفاظ استعمال کرنے کے بعد عہدے سے ہٹا کر تبادلہ کردیا گیا۔

رپورٹس کے مطابق ڈاکٹر بشریٰ بانو نے ایک ویڈیو پیغام میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی تعریف کی تھی۔ ویڈیو کے آغاز میں انہوں نے ’السلام علیکم‘ کہا جبکہ گفتگو کے دوران ’ماشا اللہ‘ کے الفاظ بھی استعمال کیے۔

بھارتی رکن پارلیمنٹ مہوا موئترا نے دعویٰ کیا ہے کہ ڈاکٹر بشریٰ بانو کو ’السلام علیکم‘ اور ’ماشا اللہ‘ کہنے پر عہدے سے ہٹایا گیا۔

بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق ہندو شدت پسند عناصر کی جانب سے بھی ڈاکٹر بشریٰ بانو کے خلاف ’السلام علیکم‘ کہنے پر شکایت درج کرائی گئی تھی۔

رپورٹس کے مطابق ڈاکٹر بشریٰ بانو ریاست مغربی بنگال کے شہر کھڑگپور میں ایڈیشنل سپرنٹنڈنٹ پولیس کے عہدے پر تعینات تھیں، تاہم مبینہ طور پر ویڈیو سامنے آنے کے بعد انہیں وہاں سے منتقل کردیا گیا۔

اس معاملے پر بھارت میں مذہبی اظہارِ رائے، سرکاری عہدے داروں کے طرزِ اظہار اور اقلیتی شہریوں کے ساتھ رویے سے متعلق بحث بھی سامنے آئی ہے۔

مزید خبریں

Back to top button