چین نے امریکا اور ایران کو اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کی طرف واپسی کا راستہ دکھا دیا

بیجنگ(جانو ڈاٹ پی کے) چین کے وزیر خارجہ وانگ یی نے ایرانی ہم منصب عباس عراقچی سے ملاقات میں ایران کے جائز حقوق اور مفادات کے تحفظ کے لیے تعاون جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے امریکا اور ایران پر تنازع کے دوران تحمل اور دانش مندی کا مظاہرہ کرنے پر زور دیا ہے۔
چینی وزارتِ خارجہ کے مطابق وانگ یی نے بدھ کے روز بیجنگ میں عباس عراقچی سے ملاقات کی، جس میں مشرقِ وسطیٰ کی موجودہ صورتحال اور ایران و امریکا کے درمیان جاری کشیدگی پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
وانگ یی نے کہا کہ چین ایران کے ساتھ مذاکرات اور تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے ساتھ اس کے جائز حقوق اور مفادات کے تحفظ کے لیے بھی تعاون جاری رکھے گا۔ انہوں نے کہا کہ امریکا اور ایران کے درمیان تنازع کا طویل عرصے تک جاری رہنا دونوں فریقوں اور عالمی برادری کے مشترکہ مفاد میں نہیں۔
چینی وزیر خارجہ نے دونوں ممالک پر زور دیا کہ وہ عقل و دانش اور تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے جلد از جلد اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کی طرف واپس آئیں، اب تک طے پانے والے اتفاقِ رائے کی بنیاد پر مذاکراتی عمل کو دوبارہ فعال کریں اور باہمی تشویش کے معاملات پر بامعنی مذاکرات کریں۔
وانگ یی نے آبنائے ہرمز کو جلد از جلد دوبارہ کھولنے پر بھی زور دیا اور کہا کہ تمام متعلقہ فریق مؤثر اقدامات کریں تاکہ اہم بحری گزرگاہ پر معمول کی آمدورفت اور بین الاقوامی جہاز رانی بحال ہو سکے۔ چین نے عالمی توانائی کی ترسیل اور سپلائی چین کے استحکام کے لیے آبنائے ہرمز میں محفوظ اور معمول کی آمدورفت کی ضرورت پر بھی زور دیا ہے۔
چینی وزیر خارجہ نے ایران اور خلیجی ممالک کے درمیان مذاکرات کی بھی حمایت کی اور کہا کہ خطے کے ممالک کو ایک دوسرے کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور قومی سلامتی کا احترام کرتے ہوئے مشترکہ مفادات کے تحفظ کے لیے تعمیری انداز میں کام کرنا چاہیے۔
ملاقات ایسے وقت میں ہوئی ہے جب آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت شدید متاثر ہے اور خطے میں جاری کشیدگی کے عالمی توانائی و سپلائی نظام پر اثرات نمایاں ہیں۔ ایران پہلے بھی آبنائے ہرمز کی مکمل بحالی کو اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر امریکی واپسی اور اس کی پاسداری سے جوڑ چکا ہے۔
چین اس سے قبل بھی امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات اور کشیدگی میں کمی کے لیے سفارتی کوششوں کی حمایت کر چکا ہے، جبکہ بیجنگ نے پاکستان سمیت دیگر ممالک کے سفارتی کردار کو بھی تعمیری قرار دیا ہے۔



