چھوٹے انتظامی یونٹس عوام کو سہولت فراہم کرسکتے ہیں،سردار محمد یوسف

اسلام آباد(جانوڈاٹ پی کے)وفاقی وزیر مذہبی امور سردار محمد یوسف نے کہا ہے کہ صوبے بنانا اس وقت وقت اور عوام کی ضرورت ہے۔
صوبہ ہزارہ کے قیام کو بھی وقت اور عوام کی ضرورت قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہا ہے کہ صوبہ ہزارہ کا قیام ہمارا آئینی مطالبہ ہے اور اسے تمام سیاسی جماعتوں کی حمایت حاصل ہے۔
ضلع کچہری میں صوبہ ہزارہ تحریک کے حوالے سے خطاب کرتے ہوئے سردار محمد یوسف نے کہا کہ وہ آج صوبہ ہزارہ کی تحریک کے سلسلے میں یہاں آئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ایک آزاد ملک کے طور پر ملا جس کے لیے ہمارے بزرگوں نے قربانیاں دی ہیں۔ جس طرح خاندان کے افراد بڑھنے پر مزید مکانات کی ضرورت پیش آتی ہے، اسی طرح بڑھتی ہوئی آبادی کے ساتھ انتظامی ضروریات بھی بڑھتی ہیں۔
سردار محمد یوسف نے کہا کہ پاکستان بننے کے وقت آبادی ساڑھے 3 کروڑ تھی اور آج تک ملک میں 4 صوبے ہیں، جبکہ پاکستان میں اضلاع کی تعداد 160 سے زیادہ ہوچکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ صوبے بنانا وقت اور عوام کی ضرورت ہے، کیونکہ آج درپیش مسائل 60 سال پہلے موجود نہیں تھے۔ آبادی بڑھنے کے ساتھ مسائل بھی بڑھے ہیں اور ان کے حل کے لیے وسائل میں اضافے کی ضرورت ہے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ چھوٹے انتظامی یونٹس عوام کی ضرورت ہیں اور انہیں بہتر انداز میں چلایا جاسکتا ہے۔ چھوٹے یونٹس سے عوام کو فائدہ اور آسانی حاصل ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ عوامی سطح پر اختیارات منتقل نہیں کیے جاتے، حالانکہ صوبوں کی ذمہ داری تھی کہ اختیارات اضلاع کو دیے جاتے۔ ایسے انتظامی یونٹس کا کوئی فائدہ نہیں جنہیں اختیارات نہ دیے جائیں۔
سردار محمد یوسف نے کہا کہ ہزارہ کے 8 اضلاع میں صوبے کے قیام کے لیے عوام نے ریلیاں نکالی ہیں، جبکہ صوبہ ہزارہ جغرافیائی حدود کے لحاظ سے بھی الگ صوبہ بننے کا اہل ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ صوبہ ہزارہ کی بات اس لیے کرتے ہیں کیونکہ اس مطالبے کو تمام سیاسی جماعتوں کی حمایت حاصل ہے اور کسی جماعت نے اس کی مخالفت نہیں کی۔
سردار محمد یوسف کے مطابق صوبہ ہزارہ کے حق میں قرارداد 3 مرتبہ خیبرپختونخوا اسمبلی سے منظور کرا کے وفاق کو بھیجی جاچکی ہے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ ملک کی سلامتی اولین ترجیح ہے۔ پاکستان نے معرکہ حق کے بعد اپنا ایک مقام حاصل کیا اور پاکستان کے امن کے لیے کردار کو عالمی سطح پر پذیرائی ملی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت پاکستان نے امریکا ایران جنگ روکنے کے لیے اپنا کردار ادا کیا، جبکہ مکہ امن معاہدہ دنیا میں امن قائم کرنے کے لیے کیا گیا۔
سردار محمد یوسف نے کہا کہ حرمین شریفین کی حفاظت کے لیے ہم جان کی قربانی دینے کے لیے بھی تیار ہیں۔



