پنجاب اور شین جیانگ میں اقتصادی، زرعی اور تکنیکی تعاون بڑھانے پر اتفاق

لاہور(جانوڈاٹ پی کے) پنجاب اور چین کے شین جیانگ خطے کے درمیان اقتصادی، زرعی، صنعتی اور تکنیکی تعاون مزید وسعت دینے پر اتفاق کیا گیا ہے۔

وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے شین جیانگ وایغور خودمختار علاقائی کمیٹی اور پارٹی سیکریٹری و پروڈکشن اینڈ کنسٹرکشن کورپس (XPCC) کے پولیٹیکل کمشنر ہی ژونگ یو سے ملاقات کی، جس میں مختلف شعبوں میں باہمی تعاون کے امکانات کا جائزہ لیا گیا۔

مریم نواز شریف نے پرتپاک خیرمقدم پر ہی ژونگ یو کا شکریہ ادا کیا اور ان کی قیادت کو سراہا۔ انہوں نے کمیونسٹ پارٹی آف چائنا کی 150ویں سالگرہ اور پاکستان و چین کے سفارتی تعلقات کے 75 سال مکمل ہونے پر بھی مبارکباد پیش کی۔

ملاقات میں میڈیکل، زراعت، معیشت، کاروبار، صنعت، ٹیکنالوجی اور بنیادی ڈھانچے کے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر گفتگو ہوئی جبکہ عوامی روابط کے فروغ کے لیے پیپل ٹو پیپل ایکسچینج پروگرام پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔

وزیراعلیٰ پنجاب نے پانی کی کمی کا شکار علاقوں میں زرعی پیداوار بڑھانے کے لیے چین کے تجربات سے استفادہ کرنے کی پیشکش کی۔ انہوں نے کہا کہ واٹر ایفیشنٹ ٹیکنالوجی، ڈرپ اریگیشن اور معیاری بیج کے استعمال سے کم پانی والے علاقوں میں بہتر زرعی پیداوار حاصل کی جاسکتی ہے۔

مریم نواز نے آبی ذخائر کے تحفظ اور خشک سالی سے متاثرہ علاقوں میں پانی کی کمی پر قابو پانے کے لیے جدید سائنسی طریقہ کار اپنانے پر زور دیا اور پنجاب کے مختلف علاقوں میں چین کے تعاون سے پائلٹ پراجیکٹس شروع کرنے کی تجویز پیش کی۔

انہوں نے کہا کہ پنجاب پاکستان کی فوڈ باسکٹ ہے اور بہتر گورننس و مؤثر اقدامات کے ذریعے غربت اور محرومی کے خاتمے کے لیے عملی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ وزیراعلیٰ نے قابلِ تجدید توانائی اور جدید ٹیکنالوجی کے فروغ کو بھی پنجاب حکومت کی ترجیحات قرار دیا۔

تعلیم کے حوالے سے مریم نواز شریف نے کہا کہ نوجوانوں کو جدید فنی و تکنیکی مہارتوں سے آراستہ کرنا صوبائی حکومت کی اہم ترجیحات میں شامل ہے۔ پاکستانی طلبہ کے لیے آن لائن تکنیکی معاونت فراہم کرنے کی تجویز بھی زیرِ غور آئی۔

مریم نواز شریف نے ارمچی میں چھٹے بین الاقوامی میڈیا ٹور کے اقدام کو سراہتے ہوئے اسے عوامی اور ثقافتی روابط کے فروغ کے لیے اہم قرار دیا۔

ملاقات میں اتفاق کیا گیا کہ پنجاب اور شین جیانگ کے درمیان مختلف شعبوں میں طے پانے والے تعاون کو عملی منصوبوں میں تبدیل کیا جائے گا تاکہ دونوں خطوں کے عوام اس شراکت داری کے ثمرات سے مستفید ہوسکیں۔

مزید خبریں

Back to top button