ماحولیاتی تحفظ کی آڑ میں کارخانے بند کرانادرست نہیں،صنعتوں کو ماحول دوست بنانا ہوگا،مریم نواز

لاہور (جانو ڈاٹ پی کے)وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے کہا ہے کہ پنجاب کو سرمایہ کاری کے لیے محفوظ اور سازگار ماحول فراہم کرنا اولین ترجیح ہے، بدامنی، احتجاج اور توڑ پھوڑ کے ماحول میں کاروبار اور صنعتیں ترقی نہیں کر سکتیں، ماحولیاتی تحفظ کے نام پر کارخانے بند کرانا درست نہیں، صنعتوں کو ماحول دوست بنانا ہوگا،

پنجاب انوویشن فار ویلیو اپرچونٹی اینڈ ٹرانسفارمیشن منصوبے کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ مریم نواز نے کہا کہ دنیا تیزی سے تبدیل ہو رہی ہے اور کوئی بھی ملک خود کو بدلتے ہوئے تقاضوں سے ہم آہنگ کیے بغیر ترقی نہیں کر سکتا۔ آج صنعت سمیت ہر شعبہ تبدیلی کے عمل سے گزر رہا ہے، ایسے میں جدید تقاضوں کے مطابق آگے بڑھنا ناگزیر ہے۔

انہوں نے کہا کہ پنجاب ملکی معیشت میں اہم کردار ادا کر رہا ہے اور قومی مجموعی پیداوار (جی ڈی پی) میں صوبے کا حصہ نمایاں ہے۔ پنجاب آبادی کے لحاظ سے ملک کا سب سے بڑا صوبہ ہے، جہاں فارماسیوٹیکل انڈسٹری تیزی سے ترقی کر رہی ہے۔ پاکستان کی نوجوان آبادی ملک کا سب سے بڑا اثاثہ بن سکتی ہے، اسی لیے نوجوانوں کو فنی تربیت فراہم کی جا رہی ہے اور بیرون ملک روزگار کے مواقع کے لیے پرواز کارڈ بھی متعارف کرایا گیا ہے۔

مریم نواز کا کہنا تھا کہ کاروبار کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنے کی خاطر امن و امان کا قیام بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ بدامنی اور بے یقینی کی فضا میں کاروبار ممکن نہیں، سرمایہ کاری لانے کے لیے سب سے پہلے ماحول کو محفوظ بنانا ہوگا۔ جہاں روز احتجاج اور توڑ پھوڑ ہو رہی ہو، وہاں محنت کش کس طرح کام کر سکتے ہیں؟

وزیراعلیٰ پنجاب نے ماحولیاتی تحفظ کی اہمیت تسلیم کرتے ہوئے کہا کہ ماحولیاتی تحفظ کی آڑ میں کارخانے بند کرانا کوئی درست اقدام نہیں، بلکہ صنعتوں کو ماحول دوست بنانا اور ان کی مؤثر نگرانی کرنا ضروری ہے۔

انہوں نے کہا کہ پنجاب میں قبضہ مافیا کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں، 25، 25 سال پرانے قبضے ختم کرائے گئے ہیں جبکہ تجاوزات کے خاتمے سے بازاروں کو کشادہ کیا گیا ہے۔ بدعنوانی کا خاتمہ بھی ان کی ترجیحات میں شامل ہے۔

مریم نواز نے بتایا کہ حکومت نے چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار کو مالی معاونت فراہم کی ہے، پنجاب میں ای بزنس کو فروغ دیا جا رہا ہے جبکہ میٹرو سمیت کھربوں روپے مالیت کے ترقیاتی منصوبے شروع کیے گئے ہیں۔

مزید خبریں

Back to top button