پیوٹن،ٹرمپ اور شی جن پنگ ایک میز پر بیٹھیں گے؟روس نے امیدیں وابستہ کرلیں

ماسکو (جانو ڈاٹ پی کے)روسی وزارت خارجہ کی ترجمان ماریہ زخارووا نے کہا ہے کہ روسی صدر ولادیمیر پوتن، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان چین میں ممکنہ سہ فریقی ملاقات سے دنیا بھر میں بڑی امیدیں وابستہ ہیں۔ ان کے مطابق تینوں عالمی طاقتوں کے رہنماؤں کے درمیان بات چیت بین الاقوامی کشیدگی کم کرنے اور عالمی استحکام کی جانب پیش رفت کا اہم موقع بن سکتی ہے۔

25 اکتوبر کو ایک ٹیلی ویژن پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے ماریہ زخارووا نے کہا کہ دنیا اس وقت بین الاقوامی تعلقات کے مشکل دور سے گزر رہی ہے، جبکہ عالمی سطح پر پائی جانے والی غیر یقینی صورتحال نے تقریباً پوری دنیا کو متاثر کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایسے حالات میں روس، امریکہ اور چین کے سربراہان کو کسی کثیرالجہتی بین الاقوامی فورم کے موقع پر ایک دوسرے سے تبادلۂ خیال کا موقع مل سکتا ہے۔

روسی ترجمان کے مطابق اس ممکنہ ملاقات پر دنیا بھر کے لاکھوں نہیں بلکہ اربوں افراد کی نظریں مرکوز ہوسکتی ہیں، کیونکہ عالمی برادری موجودہ کشیدگی اور غیر یقینی صورتحال سے نکلنے کے لیے بڑی طاقتوں کے درمیان مکالمے کو اہم سمجھتی ہے۔

ماریہ زخارووا نے امید ظاہر کی کہ دنیا انتشار کی جانب بڑھنے کے رجحان سے نکل کر دوبارہ استحکام کی طرف لوٹ سکتی ہے، یا کم از کم ایسے راستے پر گامزن ہوسکتی ہے جو مستقبل میں عالمی امن و استحکام کی بنیاد بنے۔

اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی چین میں روسی صدر ولادیمیر پوتن اور چینی صدر شی جن پنگ کے ساتھ سہ فریقی ملاقات کے امکان کا اظہار کرچکے ہیں۔ تاہم یہ ملاقات تاحال ممکنہ قرار دی جارہی ہے۔

مزید خبریں

Back to top button